سیالکوٹ واقعہ پر علما اکرام کا اظہار افسوس

سیالکوٹ واقعہ پر علما اکرام کا اظہار افسوس

 

کراچی(نیا ٹائم ) گزشتہ روز سیالکوٹ میں پیش آئے واقعہ پر علما اکرام کی جانب سے مذمتوں کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ نامور مبلغ اورعالم دین مولانا طارق جمیل کے بعد اب شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی نے بھی سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کے ساتھ پیش آنے والے افسوس ناک واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے ۔

 

گزشتہ روز سیالکوٹ میں پیش آئے  واقعہ  پر سیاستدانوں ،فنکاروں  کے ساتھ ساتھ  ملک بھر کے علما کرام کی جانب سے  شدید الفاظ میں مذمتوں  کا سلسلہ تا حال  جاری ہے۔ صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزراء اور آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت ہر شعبہ  زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے سیالکوٹ واقعے کی  مذمت کی ہے۔

 

گزشتہ روز عالمی شہرت یافتہ عالم دین مولانا طارق جمیل  کی جانب سے  بھی سیالکوٹ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا  گیا  تھا کہ ناموسِ رسالت ﷺ کی آڑ میں  کسی بھی غیر ملکی کو زندہ جلا دینے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔مولانا طارق جمیل  کاسماجی رابطوں کی ویب سائٹ  ٹویٹر پر جاری اپنے  ایک بیان میں کہنا تھا  کہ صرف الزام کی بنیاد پر قانون  کو ہاتھ میں لینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

 

مولنا طارق جمیل کے بعد  شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی کی جانب سے بھی  ردعمل  سامنے آیا ہے جس میں ان  کا کہنا ہے کہ توہين رسالت ﷺ  انتہائی سنگین جرم ہے  مگر  اس جرم  کے ثبوت   بھی  مضبوط ہونے ضروری ہیں۔شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی  کا مزید  کہنا  تھا  کہ کسی پر بھی  توہین رسالت ﷺ کا سنگین الزام لگاکر جزاو سزا دینے کا کسی کو کوئی جواز نہیں ہے۔ سیالکوٹ  کے اس گھناونے واقعے  کی وجہ سے مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کیا گیا ہے  جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

 

 

سیالکوٹ واقعہ پر سری لنکن وزارت خارجہ کا رد عمل