خان صاحب ! گھبراہٹ ہو رہی ہے

خان صاحب ! گھبراہٹ ہو رہی ہے

 

 

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے متعدد بار اپنے عوام کو “ گھبرانا نہیں ہے “ کا کہہ کر تسلی دینے کی کوشش کی ہے مگر حالات اس کےبالکل برعکس نظرآرہےہیں ۔ ڈالرکی قیمت جوں جوں بڑھتی جا رہی ہے ویسے ویسے تقریباً ہرچیز کی قیمتیں بھی اوپرسے اوپرہی جاتی جا رہی ہیں ۔ میرے خیال میں ماسوائے نمک کے پاکستان میں ہرچیز کی قیمت دوسرے روزبدل چکی ہوتی ہے۔ اصل گھبراہٹ ہی تب ہوتی ہے کہ کل ہی وہ چیز خرید لینی تھی کیونکہ آج تو وہ بجٹ سے ہی باہرہوچکی ہے۔غریب توپہلےبھی غریب ہی تھا مگر اب تو متوسط طبقہ یعنی جس کو ہم مڈل کلاس کہتے ہیں بھی اپنا پیٹ کاٹنے پرمجبورہے وگرنہ اس کی سفید پوشی کا بھرم بھی ٹوٹ جائےگا۔

گھبراہٹ اس وقت ہوتی ہےجب ضروریات زندگی کی چیزوں کی قیمتوں کو دیکھتے ہیں ،گھی ، چینی ، دالیں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں کواگرملایاجائےتوکسی بھی دیہاڑی دارمزدورکی ایک دیہاڑی میں اس کےگھروالوں کا ایک دن کا کھانا بھی نہیں بن پاتا۔

اُس وقت اور بھی زیادہ گھبراہٹ ہوتی ہے جب ایک عام شہری کو مہینے بعد بجلی کابل ادا کرنا پڑتا ہے مگر اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں بچے ہوتے کہ وہ یہ بل اداکرسکے، اسکولوں کی فیسیں ، بچوں کےدیگراخراجات اورکھانے پینےکا خرچہ پورا کرنے کے بعد بجلی کا بل اس پربجلی بن کرگرتاہے ۔

گھبراہٹ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی بندہ اپنی پسند کی نئی گاڑی خریدنےجاتاہے، جسےخریدنے کا منصوبہ وہ سالوں پہلےسےبنا رہاہوتاہے ،خریداری کے وقت پتہ چلتا ہے کہ گاڑی کی قیمت میں لاکھوں روپےکا اضافہ ہو چکا ہے،پاکستان میں پانچ سال پہلےجونئی گاڑی دس لاکھ روپے کی تھی وہ اب بیس لاکھ روپے سے بھی زیادہ کی ہے۔ اسی طرح پرانی گاڑیاں بھی عام آدمی کی پہنچ سےدورہوتی جارہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عام آدمی اب اپنی ضروریات زندگی اور خواہشات کو پورا کرنےسےقاصرہے۔

گھبراہٹ اُس وقت ہوتی ہے جب کوئی غریب آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرنےلگتا ہے۔بیٹی کی شادی کے لیےسوناخریدنےمارکیٹ جائیں توپتہ چلتاہے کہ سوناملکی تاریخ کی بلندترین سطح تک پہنچ چکاہے۔اب متوسط آدمی بیٹی کےلیےسوناخریدے یاجہیزکاباقی سامان اکٹھاکرے۔ مجبوراً دونوں چیزوں میں کمی کرنا پڑتی ہے مگر آگے سسرال جانے کے بعد بیٹی کو ساری زندگی کچھ نہ لانے کے طعنے سننے پڑتے ہیں ۔ حالانکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جہیز ایک غیر اسلامی رسم ہےمگر ہمارا معاشرہ اس رسم کو چھوڑنےکوتیارنہیں ہے۔ ہر بندے کی یہ خواہش ہوتی ہےکہ اس کی ہونے والی بہو یا بیوی اتنا جہیزلےآئےکہ بس اس کے وارے نیارے ہو جائیں اور گھر سامان سےبھرجائے۔

گھبراہٹ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی مریض ہسپتال لےکرجانا پڑ جائے، یہاں ہسپتال کا سرکاری یا پرائیویٹ ہونا ضروری نہیں کیونکہ پاکستان کےپرائیویٹ ہسپتالوں والےمریض کے لواحقین کی چمڑی ادھیڑنےکےلیےبیٹھےہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں کسی بڑے مرض والے مریض کو ہفتوں اورمہینوں اپنی باری کا انتظارکرناپڑتا ہے۔ اتناوقت یا تومریض زندہ ہی نہیں رہتا یا پھر ہسپتال میں اپنی باری پرداخل ہونےکےبعد اللہ کوپیارا ہوجاتاہے۔

 گھبراہٹ اس وقت ہوتی ہے جب صبح صبح تمام شہروں کے تمام چوراہوں پر سینکڑوں مزدور ہاتھوں میں اوزار اٹھائے کھڑے نظرآتے ہیں اور ایک گاڑی رُکنےپراس کی چاروں جانب بھگدڑ کا سا سماں ہوتا ہے ، ماسوائے چند ایک کے باقی سارے مایوس ہوکریا توخالی ہاتھ گھرچلےجاتےہونگےیا پھرآدھی دیہاڑی لگانےپرمجبورہوجاتےہونگے۔ کیونکہ آبادی میں آئے روز اضافے اور بے روزگاری کے سبب مزدوروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا رہا ہے جبکہ دوسری جانب مہنگائی کی وجہ سے روزگار پیدا کرنےکےذرائع بھی محدود ہوتےجا رہےہیں ۔

گھبراہٹ اس وقت ہوتی ہے جب چوراہوں کے اشاروں پر مانگنے والوں کا رش لگا نظرآتا ہے ۔ان میں سے بیشترتوپروفیشنل بھکاری ہوتےہیں جبکہ کچھ ضرورت مند بھی بھیک مانگنےپرمجبورہیں کیونکہ اس کےعلاوہ انہیں کوئی چارہ نظرنہیں آتا ۔

گھبراہٹ اس وقت ہوتی ہےجب پاکستان میں مافیازکےلمبے ہاتھ نظر آتے ہیں کیونکہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی چیزکومارکیٹ سے غائب کرکےاس کی منہ مانگی قیمت وصول کرتےہیں، آٹے ، چینی سے لے کر پٹرول اور گیس تک ، کھاد اور بیج سے لے کر مرغی اور سبزیوں تک ہر چیز پر ہی مافیا کا راج ہے ۔ یعنی ان کی جب مرضی ہوتی ہے چیز بازار میں وافر مقدار میں میسر ہو جاتی ہے اور جب مرضی ہوتی ہے راتوں رات چیز بازار سے غائب کردی جاتی ہے ۔

یہاں قابلِ افسوس پہلو یہ بھی ہے کہ ملک کے ہرکاروبار پرچند ایک سرمایہ داروں کا قبضہ ہے۔جوکہ خود یا تو اقتدار کے اندر ہیں یا باہر ہیں ، اسی لیے وہ نہ تو کسی حکومت کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی سرکاری محکمے کے کنٹرول میں ہیں ۔

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہے،ادارہ کااس سےمتفق ہوناضروری نہیں)