• Thursday, 27 January 2022
ملک میں مہنگائی کا نئے طوفان کا خدشہ

ملک میں مہنگائی کا نئے طوفان کا خدشہ

اسلام آباد ( نیا ٹائم ) مشیر خزانہ شوکت ترین ی جانب سے ملک میں منی بجٹ لانے کے اعلان کے بعد چیئرمین ایف بی آر نے بھی منی بجٹ تیار ہونے کی خبر سنا دی ، جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق منی بجٹ میں کاسمیٹکس ، ڈبہ بند خوراکوں کو لگژری آئٹمز قرار دیا جائے گا ، جس سے ان کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ ملکی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بیرون ممالک سے درآمد کردہ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔

چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق نے کہا ہے کہ منی بجٹ تیار ہو چکا ہے ، حکومت کے کہنے پر پیش کر دیں گے ، منی بجٹ میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ واپس لی جا رہی ہے ۔ لگژری اشیاء کی درآمدپر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا ۔ درآمدی گاڑیوں پر بھی اضافی ٹیکس لگایا جائے گا ۔

چیئرمین ایف بی آر کا مزید کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس ریفائنری کی سطح پر لاگو کیا جائے گا ، البتہ کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات پر سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی ۔ دوسری جانب ایف بی آر نے منی بجٹ لانے سے پہلے ہی کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سمیت 40 بڑے شہروں کی غیر منقولہ جائیدادوں کی ویلیو بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے ۔

حکومت کی جانب سے منی بجٹ لانے کے حوالے سے موقف دیتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی بجٹ کے موقع پر قوم سے جھوٹ بولا گیا ۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ اب کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا ، عمران نیازی نے ایک بار پھر یوٹرن لینے کا ریکارڈ برقرار رکھا ہے ۔یہ منی بجٹ نہیں ،معاشی تباہی کے ساتھ مہنگائی کا طوفان بھی لائے گا ۔ منی بجٹ قومی معیشت کے تابوت میں آخر کیل ہو گا ۔

 

مختلف شہروں میں غیر منقولہ جائیداد کی قیمتیں بڑھ گئیں