عوامی نمائندے اورتعلیم

عوامی نمائندے اورتعلیم

 

 

پاکستان کا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شہری جو کہ پچیس سال کا ہو وہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے لیے الیکشن لڑ سکتا ہے۔مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان عوامی نمائندوں کے لیے نہ تو کم سے کم تعلیم کا کوئی معیار ہے اور نہ ہی کوئی قانون  موجود ہے.جس کے نتیجہ میں اسمبلیوں تک پہنچنے والے بیشتر اراکین اسمبلی تقریباً انگوٹھا چھاپ ہی ہوتے ہیں۔ یہاں انگوٹھا چھاپ کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ یہ لوگ بالکل ہی “ سُکے ان پڑھ “ ہوتے ہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ان کی تعلیم آج کے زمانے کے حساب سے برائے نام تصور کی جاتی ہے۔آج کے دور میں سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق تعلیم یا پھر کوئی بھی پروفیشنل ڈگری ہی اعلیٰ تعلیم سمجھی جاتی ہے ۔

چاہیے تو یہ تھا کہ اراکین اسمبلی کی اہلیت کو اعلیٰ تعلیم سے منسلک کیا جاتا مگر بدقسمتی سے پچھلے چوہتر سال میں صرف ایک بار پرویز مشرف نے بی اے کی شرط رکھی لیکن ہمارے “ ماہر سیاستدان “ کہیں نہ کہیں سے بی اے اور ایم اے کی جعلی اور اصلی ڈگریاں بنوا کر اسمبلیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں ایک بڑی تعداد میں سیاستدان جعلی ڈگریوں پر نااہل بھی ہوگئے ۔

ہمارے بڑے بڑے سیاستدان نہ تو خود اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور نہ ہی انہیں پاکستانی عوام کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوئی فکر ہے ،یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے 2013 میں حکومت بنانے کے بعد سب سے پہلے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کروا کر اراکین اسمبلی کے لیے رکھی گئی بی اے کی شرط ختم کی ۔ ہمارے سیاسی رہنما کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ عوام کو شعوراورسُوجھ بُوجھ مل سکے ۔ شعور کے آنے سے کوئی بھی شخص اپنے ساتھ ساتھ ملک کا بھی اچھا بُرا سوچتا ہے جبکہ تعلیم سے دُوری انسان کو خود غرض اور مفاد پرست بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

ہمارے مُلک میں وزیر تعلیم کا کم تعلیم یافتہ ہونا کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے ، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا سائنس سے بہرہ مند ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ اکثر اوقات وزیربجلی و پانی کلو واٹ اور میگاواٹ کا فرق تک نہیں جانتے ۔ وزیر مذہبی امور کا عالم ہونا یا پھر اسلامی سکالر ہونا بھی ہرگز ضروری نہیں ہے ۔ پاکستان میں جو بھی وزیر بیوروکریسی کو اچھی طرح کنٹرول کرلے اسی کی کارکردگی کو اچھا سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہمارے ملک کی بگڑی ہوئی بیوروکریسی کو “ نَتھ “ ڈالنا ہی اصل فن اور سیاست سمجھا جاتا ہے۔ نہیں تو بیوروکریسی تو وزیراعلیٰ اور وزیراعظم تک کو ناکام کروا سکتی ہے ۔

بات یہاں اراکین اسمبلی کی تعلیم کی ہورہی ہےتوتعلیم حاصل کرنا ہمارے سیاستدانوں کے لیے جان جوکھوں کا کام ہے ۔ سیاستدانوں کے بچے بھی اکثراوقات سیاست میں ہی آتے ہیں ، لہٰذا جدی پُشتی اور خاندانی سیاست کا زور ہے ۔ سیاستدانوں کے جو بچے پڑھ لکھ جاتے ہیں انہیں ان کے والدین سیاست سے دور کرکے بزنس مین بنا دیتے ہیں جب کہ کم پڑھے لکھے بچوں کو شروع سے ہی سیاست کے داؤ پیچ سکھا کرالیکشن لڑنے کےلیےتیارکیاجاتاہے ۔

اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ جو کہ خود قانون سازی کا ایک ادارہ ہے مگر اس میں ایسی قانون سازی ہی نہیں کی جاتی جو اراکین اسمبلی اور دیگر سیاستدانوں کے مفاد کے برعکس ہو ۔ بلکہ ایسے قوانین جو کہ ان لوگوں یعنی سیاستدانوں کے اپنے مفادات کو تحفظ دیں فوراً پاس کروالیے جاتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور غیرملکی پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے لیے بلائے گئے اجلاس میں اسمبلی میں بیٹھے اپوزیشن کے رہنما اس بل کی مخالفت کرتےنظرآئے کیونکہ یہ دونوں چیزیں انہیں روایتی الیکشن کے برعکس اور اپنے خلاف ہوتی ہوئی نظرآرہی ہیں ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی زیادہ تر تعداد پڑھے لکھے اور پروفیشنل لوگوں پر مشتمل ہے اس لیے ہمارے موجودہ سیاستدانوں کے لیے انہیں اپنے جھوٹے وعدوں اور نعروں کے جال میں پھنسانا مشکل نظرآتا ہے ۔ اسی لیے وہ غیر ملکی پاکستانیوں کو کسی صورت بھی ووٹنگ کا حق استعمال کرنےکے حق میں نہیں ہیں  ( یہ الگ بات ہے کہ بیشتر سیاستدانوں کے اہل و عیال دوہری شہریت رکھتے ہیں ) ۔

موجودہ حکومت کے لیے یہ مفت مشورہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے اراکین پارلیمنٹ کے لیے کم سے کم تعلیم بی-اے کا قانون پارلیمنٹ سے منظور کروالے تاکہ آئندہ آنے والےالیکشن میں پُرانے ، کم تعلیم یافتہ اور روایتی سیاستدانوں کے لیے فلٹر لگایا جا سکے ، یوں پڑھے لکھے اور نئے نوجوانوں کو سیاست میں قسمت آزمائی کے مواقع میسرآئیں گے ۔

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)