ریاض فتیانہ ڈٹ گئے

ریاض فتیانہ ڈٹ گئے

اسلام آباد ( نیا ٹائم ) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی و پبلک اکاؤنٹس کے رکن ریاض فتیانہ اپنی ہی حکومت کے خلاف ڈٹ گئے ، کہتے ہیں کرپشن چاہے پی ٹی آئی رکن کرے یا اپوزیشن ممبر ، کسی کو معافی نہیں ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ممبر قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے کہا کہ میں نے حکومت یا کسی بھی فرد کے خلاف بات نہیں کی ، حکومت کا پیسہ ہو یا کسی بھی ڈونرز کا اسے درست جگہ ہی خرچ کیا جانا چاہئے ۔ سارے خاندان کو ساتھ لے جا کر بزنس کلاس میں جا کر بڑے ہوٹلوں میں ٹھہرانامناسب نہیں ۔

 

ریاض فتیانہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی مجھے کسی نے نہیں بلوایا ، اگر وزیر اعظم نے بلوایا تو ضرور آگاہ کروں ، میرے کسی کے ساتھ ذاتی جھگڑا نہیں ، گلاسگو کانفرنس میں قائد اعظم اور وزیر اعظم کی تصویر ہونا چاہئے تھی ، وہاں کسی بھی لگڑ بگڑ کی تصویر کے بجائے پاکستان کے سیاحتی مقامات کی تصاویر ہونا چاہئے تھی ۔

 

انہوں نے اپنے اوپر لگائے گائے الزامات اور شوکاز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر دو جگہ پر انکوائری ہو رہی ہے ۔ اس کے نتائج آنے تک تبصرہ نہیں کروں گا ۔

واضح رہے گزشتہ دنوں رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا تھا کہ گلاسگو کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر زرتاج گل اور وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم کے درمیان جھگڑا ہو گیا جس کے بعد وفاقی وزیر زرتاج گل کانفرنس ادھوری چھوڑ کر وطن واپس آ گئی تھیں ۔

 

ریاض فتیانہ نے کہا کہ گلاسگو میں منعقدہ کانفرنس میں افسران کی نااہلی کے باعث پاکستان کی نمائندگی انتہائی غیر معیاری تھی ۔ نیپال سمیت دیگر ممالک کے وفود کو پاکستانی کیمپ میں کسی افسر نے بھی ریسیو نہیں کیا ۔

 

پاکستان تحریک انصاف کی احتساب و ڈسپلن کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی و ممبر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ریاض فتیانہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور ان سے  4 دسمبر تک وضاحت طلب کی گئی تھی ۔ کمیٹی کے شوکاز  میں کہا گیا ہےکہ آپ نے بطور رکن پی اے سی حکومتی وفد پر لڑائی سمیت دیگر الزامات لگائے لہٰذا ثبوت دیں، آپ نے الزام لگایا کہ امین اسلم سے لڑائی کے باعث زرتاج گل وطن واپس آ گئیں ، ان تمام الزامات کے تحریری شواہد،کوائف اور دیگر ثبوتوں کے ساتھ کمیٹی کو فراہم کریں ۔

 

گورنرپنجاب کے خوفناک انکشافات