نیب نے نئی پالیسی بنا لی

نیب نے نئی پالیسی بنا لی

اسلام آباد ( نیا ٹائم ) قومی احتساب بیورو میں  کونسا کیس چلے گا ، کونسا نہیں ؟ ترمیمی آرڈیننس کے مطابق نیب حکام نے پالیسی مرتب کر لی ۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کی جانب سے تمام نیب بیوروز کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرلز کو لکھے گئے خط میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ منی لانڈرنگ ، کرپشن ، آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے کیسز نیب کے دائرہ کار میں ہی رہیں گے ۔ عوام سے فراڈ کرنے والے پرائیویٹ افراد کے خلاف بھی نیب کا اختیار بحال کر دیا گیا ہے ۔ تاہم کابینہ اور دیگر فورمز سے منظور کروائے گئے منصوبوں پر بننے والے کیسز پر اب نیب تحقیقات یا کارروائی نہیں کر سکے گا ۔ محض ضابطے کی غلطیوں پر بھی نیب کو کارروائی کا اختیار نہیں ہو گا ۔

نیب پراسیکیوٹر جنرل سید اصغر حیدر کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹرز کو لکھے گئے خط میں نیب کی ترمیم شدہ پالیسی سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد کون سے کیسز نیب عدالت میں چل سکیں گے اور کن کیسز پر نیب کا اختیار نہیں رہے گا ۔

خط کے مطابق منی لانڈرنگ کے کیسز پر انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ہی نیب کو کارروائی کا اختیار حاصل ہے جبکہ کرپشن ، آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات سے تجاوز کے کیسز پر بھی نیب کا اختیار برقرار رہے گا ۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ عوام کے ساتھ فراڈ کرنے والے پرائیویٹ افراد کے خلاف بھی نیب کا اختیار بحال کر دیا گیا ۔ تاہم کابینہ اور دیگر متعلقہ فورمز سے منظور کروائے گئے منصوبوں پر بننے والے کیسز اب نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں رہیں گے ۔ محض ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں اور غلطیوں پر بھی نیب کارروائی کرنے کا مجاز نہیں ہو گا ۔

بینک کے قرض سے متعلق معاملات پر کارروائی سے پہلے نیب کو سٹیٹ بینک سے منظوری لینا لازم ہو گا ۔ خط میں ڈپٹی پراسیکیوٹرز جنرل کو ترمیمی آرڈیننس کے تحت استثنیٰ والے کیسز کی فہرست بھی فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ بتائیں کہ ان کے بیورو میں جاری کون کون سے کیسز پر اب مزید کارروائی نہیں کی جا سکتی ۔  

خط میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر مبہم رائے کے ساتھ کیسز کی فہرست بھی فراہم کی جائے تاکہ ہیڈ کوارٹر ان کیسز پر فیصلہ کر سکے ۔

 

ایف بی آر کس کیلئے سرگرم