ایف بی آر کس کیلئے سرگرم

ایف بی آر کس کیلئے سرگرم

اسلام آباد(نیاٹائم )رئیل سٹیٹ ایجنٹس کی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ رئیل سٹیٹ ایجنٹس کو ایف بی آر سے رجسٹریشن لازمی کرانا ہو گی۔

 

 جس کے بعد سرکاری یا پرائیویٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی غیر رجسٹرڈ ایجنٹ سے بزنس کرنے کی اہل نہیں ہوگی۔ جبکہ غیر منقولہ پراپرٹی کی ٹرانسفر یا رجسٹریشن بھی ناممکن ہوگی۔ ایف بی آر کے مطابق خلاف ورزی پر منی لانڈرنگ ، ٹیرر فنانسنگ کے قوانین کے تحت قانونی کاروائی کی جائے گی۔

 

ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تمام ہاؤسنگ اتھارٹیز، کارپوریٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز پر یہ تمام شرط لاگو ہوگی جبکہ اس کا اطلاق رہائشی یا کمرشل مقصد کےلیے بنائے گئی ڈیویلپمنٹ اسکیموں پر بھی ہوگا۔اس  کے علاوہ تمام تعمیرات، پراپرٹی کی خرید و فروخت یا ملکیتی حقوق کی منتقلی بھی انہی شرائط کے تحت ہو گی۔ 

 

واضح رہے کہ ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول لازم بنانا ہو گا جب کہ انہیں غیر مالیاتی کاروبار اوربطور  پیشہ رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی سخت شرائط کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سرگرم ہوگیا۔دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیوں کی رجسٹریشن شروع کر دی گئی اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سے ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

 

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سے گزشتہ سال کے کلائنٹ کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا تھا جب کہ ایف بی آر نے ریئل اسٹیٹ ایجنٹس سے ہائی رسک کلائنٹس کی مکمل تفصیلات بھی مانگی تھیں۔

 

9 رکنی ٹیم آڈٹ کیلئے پاکستان پہنچ گئی