عوام کا بدلتا ہوا سیاسی مزاج

عوام کا بدلتا ہوا سیاسی مزاج

 

مُلک میں جاری مہنگائی کی شدید ترین لہرنےعوامی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے جس وجہ سےعوام اپنے نظریات بدلنے پرمجبورہیں۔ کل جو لوگ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ملک کی کرپٹ ترین جماعتیں سمجھتے تھے آج انُ کو آج کے مقابلے میں بہتر قرار دے رہے ہیں حالانکہ موجودہ مہنگائی کی لہر میں حکومت کا عمل دخل کم جبکہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کا زیادہ ہے ۔مہنگائی کی دوسری وجہ دُنیا بھرمیں پچھلے سال آنے والی کورونا کی بیماری بھی ہے ،کیونکہ گزشتہ برس ہر چیز کی پیداوار متاثر ہوئی جس کا اثر اس سال پڑنا شروع ہوا ۔ لیکن وجوہات جوبھی ہوں ہمارے عوام اس کا ذمہ دار حکومتِ وقت کو ہی ٹھہراتے ہیں ۔

بات یہاں ہو رہی ہے پاکستانی عوام کے بدلتے ہوئے سیاسی مزاج کی تو یہ بات اٹل حقیقت ہے کہ عوام تمام سیاسی جماعتوں سے بدظن ہو چکے ہیں عوامی دردرکھنے کادعوی کرنےوالی سیاسی جماعتیں دو دو،،، تین تین بار حکومت کرچکی ہیں مگر عوام کے حالات بہترہونےکےبجائے بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ پاکستانی عوام نے 2018 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا کہ عمران خان کی قیادت میں مُلک سے کرپشن ، غُربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا مگر ابھی تک نہ تو کسی کرپشن کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ، نہ ہی روزگار کی فراوانی ہوئی اور نہ ہی غربت میں کمی ہوتی دکھائی دی، بلکہ غُربت میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہوتا نظرآ رہا ہے ۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ پاکستان کے عوام کا عمران خان پربھی اعتبار اُٹھتا دکھائی دے رہا ہے ، اسی لیے اب عوام کسی نئے سیاستدان یا نئی سیاسی جماعت کی تلاش میں ہیں۔ کیونکہ موجودہ حکومت بھی تقریباً اُن لوگوں کا مجموعہ ہے جو گزشتہ حکومتوں میں دوسری جماعتوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ماسوائے چند ایک نئے چہروں کے جن کا شاید حکومت میں کوئی خاص کردار بھی نہیں ہے ۔

پاکستان کی آبادی چونکہ 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے ، نوجوان طبقہ اپنے نظریات بدلتے ہوئے دیر نہیں لگاتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری یوتھ پُرانی سیاسی جماعتوں اور پُرانے سیاستدانوں کو اتنی اہمیت بھی نہیں دے رہی بلکہ نئے سے نئے اور بہتر سے بہتر کی تلاش میں ہے ۔

اب کی بار لگتا ہے کہ پرانی سیاسی جماعتوں کا گراف نیچے کی طرف ہی جائے گا کیونکہ پرانے نعروں اور کھوکھلے وعدوں پر ہماری نوجوان نسل کو قطعی کوئی بقین نہیں رہا ۔ اب تو سیاستدانوں کی باتوں کو کوئی بھی سنجیدہ ہی نہیں لیتا کیونکہ گزشتہ بیس سالوں میں مُلک نے تو اتنی ترقی نہیں کی جتنی کہ ہمارے ملک کے سیاستدانوں اور ان کے اہل و عیال نے کی ہے ۔ ایک طرف مُلک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جارہا ہے تودوسری طرف کاروباری طبقے اور سرمایہ داروں کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا رہا ہے ۔ اب پاکستانی عوام جان چکے ہیں کہ دراصل ملک کے تمام تر وسائل پر چند ایک خاندان قابض ہیں جو کبھی بھی مُلک اور عوام کو خوشحال نہیں ہونے دیتے بلکہ تمام تر وسائل کو اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں ۔ حکومتیں بنانے اور حکومتیں گرانے میں پیسہ ہی سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے ، اسی لیے اب عوام حقیقی معنوں میں کسی ایسے لیڈر کی تلاش میں ہیں جو کہ پاکستان کو عام عوام کے رہنے کے قابل بنائے نہ کہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کی آماجگاہ بنے ۔

آنے والے الیکشن میں قوی امکان ہے کہ کوئی نئی سیاسی جماعت چاہے وہ مذہبی سیاسی جماعت ہی کیوں نہ ہو، یا پھر کوئی نیا لیڈر ابھر کر سامنے آ سکتا ہے کیونکہ پاکستانی عوام نے اپنے تمام تر پُرانے سیاستدان آزما لیے ہیں مگر حالات ویسے کے ویسے ہی ہیں ۔ خاص طور پر نوجوان طبقے کا مذہبی جماعتوں کی جانب جھکاؤ نہایت اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔

 

(نوٹ: مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)