آڈیو ویڈیو کی داستان

آڈیو ویڈیو کی داستان

 

 

آج کل پاکستانی سیاست میں آڈیو ویڈیو کے چرچے ہیں،ساتھ ہی ایک بیان حلفی کا ذکر بھی چھڑگیا ہے،پہلے اس بیان حلفی پربات کرلیں کہ جس میں حقیقت سے ہٹ کر باتیں کی گئی ہیں،اس کا ذکر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کرچکے ہیں،شریف چکر بازوں کی اس چال کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، رانا صاحب کی پینشن اور حالیہ تنخواہوں کا کیا بنے گا،وہ ریٹائیرڈ جج کے طور پر لمبی چوڑی پینشن اور دیگر سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں،اس کے علاوہ وہ سندھ کی شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کے وی سی کے طور پرتیس لاکھ ماہانہ اور ساڑھے تین کروڑ سے زائد سالانہ وصول کرتے ہیں،اب ایک بیان حلفی کی قیمت پتہ نہیں کتنی وصول کی جاتی ہے۔

 سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک مبینہ آڈیو کو پہلے ہی مرحلے میں ٹی وی چینلز نے بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے بھی اس آڈیو کو جعلی قراردیا ہے،اسی دوران ایک اور ویڈیو نے آزادی اظہار رائے کے نعرے لگانے والوں کو بھی بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے،سونے پہ سہاگہ کہ مریم نواز نے اسے تسلیم بھی کرلیا ہے،ن لیگ کے مختلف رہنماؤں نےاس سلسلے میں کئی انوکھے جھوٹ گھڑتے ہوئے کبھی اسے دس سال پرانی ویڈیو قراردیا ہےمگر کیا کیجیئے کہ جھوٹ پھر جھوٹ ہوتا ہے،معلومات رکھنے والوں نے بتایا کہ اس زمانے میں مذکورہ چینلز میں سے دو چینل ہی نہیں تھے اب پھر بات سامنے آئی کہ سچ یہ ہے کہ مریم نواز نے یہ ہدایات اس وقت دی تھیں جب ان کے ابا حضور ملک کے وزیراعظم تھے اور خود ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں تھا۔

دو سیمیناروں کی بھی ایک داستان ہے،ایک سیمینار میں مریم نواز نے جنتر منتر اور طوطا مینا کی کہانیاں سنائیں جبکہ دوسرے سیمینار میں میں علی احمد کرد نے پانی کے دو گھونٹ زیادہ پی لینے کے بعد بہت کچھ کہہ دیا۔

ن لیگ معاشرے کو پتہ نہیں کس طرف دھکیل رہی ہے،خیر یہ ان کا پرانا شیوہ ہے،آپ کو یاد ہوگا کس طرح انہوں نے بھٹو خاندان کی خواتین کی تصاویر کواچھالا،اس وقت بھی کام جوڑ جاڑ کے چلایا گیا تھا اور اب بھی کام جوڑ جاڑ کے چلایا جارہا ہے، اس فلم کے فلم سازوں کی سوچ پرانی ہے بس اب نئی ٹیکنالوجی کا استعمال ہورہا ہے۔

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)