• Saturday, 04 December 2021
نادرا بھی ہیکرزکی زد میں

نادرا بھی ہیکرزکی زد میں

 

اسلام آباد (نیا ٹائم ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں جعلی سمیں برآمد کی جارہی ہیں،نیشنل ڈیٹا بیس ریگولیٹری اتھارٹی (نادرا) کا بائیو میٹرک ڈیٹا ہیک کرلیاگیاہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں جعلی سموں کی روک تھام سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بتایا کہ نادرا کا بائیو میٹرک ڈیٹا ہیک ہوگیا ہے اور فیصل آباد سے 13 ہزار جعلی سمیں برآمد ہوئی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ نادرا کا ڈیٹا کمپرومائز ہوچکا ہے اور بائیو میٹرک ڈیٹا ہیک کیاگیاہے۔

سائبرکرائم ونگ کو اب تک سائبرکرائم کےحوالےسے89 ہزار شکایات موصول ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم کو روزانہ اتنی شکایات موصول ہو رہی ہیں لیکن عملہ کم ہے۔سائبر کرائم ونگ میں صرف 162 تفتیشی افسران ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ مالی فراڈ کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں لیکن جب کوئی پکڑا جاتا ہے تو کوئی بزرگ مرد یا عورت ہوتی ہے۔ کمیٹی کےاجلاس کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کا مزید کہنا تھا کہ سموں کی بائیو میٹرکس کے دوران بعض اوقات نادرا کے ڈیٹا سے کمپرومائزکیاجاتا ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بریفنگ میں کہا ہےکہ پی ٹی اے نے کسی بھی موبائل فون کمپنی کو ڈور ٹو ڈور سمز فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی، ایک سال میں غیرقانونی سموں کی فروخت میں 600 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ان کامزید کہناہےکہ پاکستان میں آنکھوں کا ڈیٹا بیس موجود نہیں ہے۔ غیر قانونی طریقے سے لوگوں کے انگوٹھوں کےنشان لیےجاتےہیں ۔ اب انگوٹھے کے نشان کا معاملہ ختم کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک سال میں دو آپریٹرز کو بالترتیب 10 کروڑ اور 5 کروڑجرمانہ کیا گیا ہے اور 5 لاکھ 36 ہزار سمیں بلاک کی گئی ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ موبائل آپریٹرز نے فرنچائزز کو 2 کروڑ 30 لاکھ روپے جرمانہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف اس سال اکتوبر میں 26 ہزار غیر قانونی سموں کی نشاندہی کی گئی اور پی ٹی اے کی جانب سے غیر قانونی سموں کی فروخت روکنے کے لیے اقدامات کیےگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کی ویب سائٹ پرمالی فراڈ کا پیغام بھیجنے والے کے خلاف شکایت درج کروائی جا سکتی ہے اور لوکیشن بھی ٹریس کی جا سکتی ہے ۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی کنول شوزب نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی ارکان کی موبائل لوکیشن ٹریس کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہماری لوکیشن لی گئی۔ سندھ کے علاقے ٹھٹھہ میں مجھ سمیت دو ارکان کی لوکیشن ٹریس کرلی گئی۔ کنول شوزب نے کہا کہ وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سب کی لوکیشن لے رہی ہیں ممبران موجود تھے لیکن لوکیشن ٹھٹھہ میں دکھائی دی۔میڈیا سےگفتگو کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری لوکیشن ہمیشہ لی جاتی ہے، ہم پارٹی کو لوکیشن خود ہی دیتے ہیں، انہوں نے کمیٹی میں مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک رکن کی لوکیشن 3 جگہ ظاہر ہو رہی ہے تو یہ خوفناک بات ہے۔ انہوں نے کمیٹی سے کہا کہ اس مسئلے پر بھی قابو پایا جائے۔

 

بھارتی ڈرامہ "کامنا "سستی کاپی کیسے ؟

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ