• Saturday, 04 December 2021
کیا نیب آسمان سےاترا ہے؟سپریم کورٹ

کیا نیب آسمان سےاترا ہے؟سپریم کورٹ

 

کراچی (نیاٹائم)سپریم کورٹ آف پاکستان  کی جانب سے  قومی احتساب بیوروکی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے گئے۔

 

چیف جسٹس آف  پاکستان  جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں  3  رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں  نجی  کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رفاعی پلاٹوں  پر قبضے کے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس  پاکستان نے رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی پر سخت   ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے  کہا  کہ پارکس، مسجد  کی زمین  کی الاٹمنٹ  کوکینسل کیوں نہیں کرتے؟ ریاست  اس معاملے  میں کیا کر رہی ہے؟ کیا ریاست بےبس  ہوچکی؟ قومی احتساب بیورو کیا کر رہا ہے؟ انہیں جیلوں میں کیوں نہیں ڈالتے؟  بتیس پلاٹس کا معاملہ  گزشتہ  10سالوں سے چل رہا ہے مگر  حکومت کو  کوئی  فکر نہیں۔

 

نیب پراسیکیوٹر   کی جانب سے عدالت کو  بتایا گیا  کہ اس کیس میں   4  افراد نے عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں، پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی منسوخی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اختیار میں  ہے۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے  کہ کیا  نیب آسمان سے اترا ہے؟ ۔ جسٹس قاضی محمد امین احمد نے  کہا  کہ قومی احتساب بیورو  کے تفتیشی افسر نے ملزموں  کی گرفتاری کے لیے کیا کیا؟ اگر ملزم  ضمانت پر ہیں تو کیا ضمانت صدیوں تک چلنی ہے؟۔چیف جسٹس  گلزار احمد نے کہا کہ تفتیشی افسر صاحب، کیوں نہ  آپ  کو ہی فارغ کردیا جائے ؟ چیرمین نیب کو کہہ دیتے ہیں، آپ کے خلاف  تفتیش کریں، نیب کے انکوائری  افسر کو  ہی جیل بھجوا  دیتے ہیں، لگتا نہیں کہ یہ انکوائری  افسر ہیں، آپ کو عوامی کاموں کے لیے لگایا مگر آپ تو  کسی اور کام میں ہی  لگ گئے۔

 

سپریم کورٹ  کی جانب سے  نیب  کی کارکردگی  بارے سوالات اٹھاتے   ہوئے  چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کو  قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا  کہ سینکڑوں کیسز دس دس سال سےزیر  التوا ہیں مگر  کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔سپریم کورٹ نے ملزموں  کو اظہار وجوہ کانوٹس  جاری کرتے ہوئے چیئرمین نیب کو انکوائری  افسر اوصاف کے خلاف  تفتیش  کی بھی ہدایت کی  جبکہ  سماعت کو کل تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

 

 

گرین بیلٹ سے گرڈسٹیشن ہٹانا ہو گا

 

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ