• Saturday, 04 December 2021
کابل ائرپورٹ کی چابی اب کس کے پاس؟

کابل ائرپورٹ کی چابی اب کس کے پاس؟

 

دبئی (نیا ٹائم ویب ڈیسک ) متحدہ عرب امارات(یو اے ای ) نے افغانستان کے نئے حکمرانوں پر اثر و رسوخ کی سفارتی جنگ میں قطر کیخلاف جاتے ہوئے کابل ایئرپورٹ کا انتظام چلانے کیلئے طالبان سے بات چیت کی۔رپورٹ کے مطابق خلیجی ملک میں ایک مغربی سفارت کار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے حالیہ ہفتوں میں ہوائی اڈے کے آپریشن کے حوالے سے طالبان حکام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

ان کے مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک کس طرح طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہیں ، حالانکہ شدت پسند اسلامی گروپ بڑی حد تک الگ تھلگ ہے اور اسے ابھی تک کسی ملک کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا ہے ۔معاملے کی حساسیت کے پیش نظر نام ظاہر کرنے سے انکار کرنے والے ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے حکام قطر کے سفارتی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔

اگست میں امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد سے قطر حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو چلانے میں مدد کے لیے ترکی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، اور کہا ہے کہ وہ اس آپریشن کو سنبھالنے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، چار سفارت کاروں نے کہا کہ طالبان نے ابھی تک قطر کے ساتھ انتظامات کو حتمی شکل نہیں دی ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کابل ہوائی اڈے کو امریکی حمایت یافتہ حکومت کے تحت چلاتا ہے اور انسانی ہمدردی کی رسائی اور محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے اسے چلاتا رہے گا۔

ابوظہبی نے بھی انخلاء کی حالیہ کوششوں کی حمایت کی۔دوسری جانب طالبان اور قطری حکام نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔دونوں سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ طالبان نے متحدہ عرب امارات سے مالی مدد بھی مانگی ہے حالانکہ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس کا تعلق ہوائی اڈے سے ہے یا نہیں ۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار اور بین الاقوامی سیکیورٹی تعاون کے ڈائریکٹر سلیم الزابی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا متحدہ عرب امارات طالبان کو مالی مدد فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

سفارت کاروں نے کہا ہے کہ طالبان اور ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنے والوں کے درمیان یہ اہم مسئلہ حل ہونا باقی ہے کہ اس مقام پر سیکیورٹی کون فراہم کرتا ہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ وہ 20 سال کی جنگ کے بعد اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں کوئی غیر ملکی فوج نہیں چاہتے۔اس کے باوجود قطری اسپیشل فورسزاس وقت ایئرپورٹ گراؤنڈز پر سیکیورٹی فراہم کررہی ہیں جب کہ طالبان کی اسپیشل فورسز ایئرپورٹ کے باہر گشت کررہی ہیں۔

اب تک دنیا بھر کے ممالک طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے گریزاں رہے ہیں اور اس گروپ پر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو برقرار رکھنے کے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ