• Saturday, 04 December 2021
گرین بیلٹ سے گرڈسٹیشن ہٹانا ہو گا

گرین بیلٹ سے گرڈسٹیشن ہٹانا ہو گا

 

کراچی(نیا ٹائم) سپریم کورٹ  کراچی رجسٹری نے  بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے الیکٹرک کو جواب جمع کرانے کے لیے ایک دن کی مہلت دے دی۔

 

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پی ای سی ایچ ایس غیر قانونی تعمیرات کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے پی ای سی ایچ ایس کے وکیل  کو  جھاڑ پلاتے ہوئے  کہا کہ آپ وکیل ہیں اور آپ کو اتنا نہیں معلوم کہ الاٹمنٹ آپ نے دی۔ کے الیکٹرک تو مہنگی زمین بھی خرید سکتی ہے   مگر آپ نے  اسے رفاہی پلاٹ دے دیا ؟پی ای سی ایچ ایس کے وکیل نے کہا کہ کے الیکٹرک کو کم قیمت پر زمین دی  گئی ہے جس پر  چیف جسٹس گلزار احمد  کا کہنا تھا کہ کیا کے الیکٹرک صرف معمولی قیمت لیتی ہے ؟ وہ صرف  اور صرف پیسہ بنا رہے ہیں اور کے الیکٹرک کا مفاد عامہ  سے  بھلا کیا تعلق ؟  آپ کو گرین بیلٹ سے گرڈ سٹیشن  کو ہٹانا ہو  گا۔

 

چیف جسٹس  پاکستان نے کہا کہ گرین بیلٹ پر کوئی  بھی کمرشل کام نہیں ہو گا  اورآپ  چاہے جتنے  بجلی گھر بنا دیں پورے شہر میں لوڈ شیڈنگ ہے جب کہ عوام  کو دو سے تین گھنٹے ہی بجلی مہیا ہوتی  ہے کیا سروس دے رہے ہیں  کے الیکٹرک والے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جہاں سٹیشن لگایا ہوا ہے  وہاں محمود آباد میں کتنا وقت بجلی آتی ہے ؟ آپ کو گرڈ سٹیشن  ہٹانے کے لیے  ٹائم  دے سکتے ہیں مگر اسے  ہٹانا پڑے گا۔

 

چیف جسٹس  پاکستان نے کے الیکٹرک کے وکیل سے  استفسار  کرتے ہوئے کہا کہ آپ کاروبار کر رہے ہیں آپ کا  نیشنل انٹرسٹ  سے کیا تعلق ؟ آپ کا تو ایگریمنٹ  ہی ایکسپائر ہو چکا ہے، پتہ نہیں آپ  کے الیکٹرک کو  کیسے چلا رہے ہیں ۔ آپ عوام کو بلیک میل کر کے ادارہ چلا رہے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ  پرائیویٹ اداروں کے پاس تو یہ سروس ہونی ہی نہیں چاہیے، آپ نے ایلمونیم کی تاریں لگا کر   پورے   سسٹم  کو تباہ کر دیا اور جہاں بجلی چوری ہوتی ہے  ان کا بل بھی  دوسروں کے بلوں میں ڈال دیتے ہیں۔کے الیکٹرک کے وکیل نے کہا کہ ہمارے  ساٹھ  گرڈ سٹیشنز ہیں۔

 

چیف جسٹس پاکستان  نے ریمارکس دیے کہ گرڈ سٹیشنز اگر رفاہی پلاٹوں  پر ہیں تو پورے  ساٹھ  ہی ہٹانے پڑیں گے۔ آپ کا کام تو صرف پیسہ  ،پیسہ  اور پیسہ ہے بس،  جبکہ بورڈ آف ڈائریکٹر زکہتے ہیں  ہمیں پیسہ کیسے کمانا ہے بس۔چیف جسٹس گلزار نے کہا کہ کے الیکٹرک کے پیچھے کون  لوگ ہیں ابھی تو کسی کو  یہ ہی   پتہ  نہیں اور کے الیکٹرک کو اصل میں چلا کون رہا ہے؟ ہمیں  اس بات پر بھی حیرانگی  نہیں ہو گی کہ  کے الیکٹرک کا تعلق ایسے ملک سے ہو جس سے ہمارا تعلق ہی نہیں۔عدالت نے کے الیکٹرک کو جواب  جمع کروانے کے لئے  ایک دن کی مہلت دیتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

 

 

خاموش رہو،بھاشن مت دو

 

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ