• Saturday, 04 December 2021
خاموش رہو،بھاشن مت دو

خاموش رہو،بھاشن مت دو

 

کراچی(نیا ٹائم)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری  میں  سرکاری  زمینوں پر قبضہ ختم نہ کرانےپر چیف جسٹس  پاکستان جسٹس گلزااحمد  کا  اظہار برہمی ، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو  جھاڑ پلا دی۔

 

  کراچی میں سرکاری  زمینوں پر قبضے اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کیس کی سماعت  سپریم کورٹ  کراچی رجسٹری میں ہوئی ، کیس کی سماعت چیف جسٹس  سپریم کورٹ  جسٹس گلزا ر نے  کی۔ چیف جسٹس  نے  سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرانےسے متعلق سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ  کو مسترد کر دیا۔دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان   جسٹس گلزار احمد  کا  سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پر اظہار برہمی  کرتے  ہوئے  کہنا تھا کہ خاموش رہو  اور بھاشن  مت  دو۔آدھی حکومتی  زمینوں پر قبضہ ہوگیا ہے مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے ۔لالی پاپ آپ کو آپ کے افسر ان دیتے ہیں۔اپنا کام  سنجیدگی سے  کرو۔

 

چیف جسٹس  کا کہنا تھا   کہ سارا کراچی  تجاوزات سے بھرا پڑا ہے۔آپ نیت سے کام کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ  پیسے لے کے   روازنہ آپ تجاوزات کی اجازت دیتے ہیں۔کورنگی سمیت پورے کراچی میں غیر قانونی عمارتیں  تعمیر  ہیں۔کراچی میں کتنی  تجاوزات ہیں  ہم نے اس حوالے سے کب سے حکم دے رکھا ہے  مگر تجاوزات ختم نہیں ہوئیں ۔جسٹس قاضی امین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  کہا  کہ ہمارے سامنے  کوشش کی بات مت  کرو، یہ صرف اور صرف  دو ہفتوں کا کام ہے۔

 

جسٹس اعجاز الحسن  کا   دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا  کہ آپ کو عملی طور پر کام کرنا نہیں آتا،اس شہر میں  کیا نیا ہوا ہے؟ نوشہرو فیروز، حیدرآباد، لاڑکانہ اور بینظیر آباد میں آپ کی کارکردگی صفر ہے۔ٹاسک کو پورا کرنا آپ کا کام ہے خالی  رپورٹ سے کچھ نہیں ہوتا۔عدالت نے پورے سندھ  میں  حکومتی  زمینوں سے قبضہ ختم کرانے کا آرڈر دے دیا۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو  کو عدالتی آرڈر  پر مکمل عملدرآمد کرانے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت نے سینئر ممبر کو ایک مہینے  میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

 

 

کمشنر جاؤ اور نسلہ ٹاور گراؤ

 

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ