• Saturday, 04 December 2021
آئی ایم ایف نے پاکستان کی اہم تجویزمسترد کیوں کی؟‎

آئی ایم ایف نے پاکستان کی اہم تجویزمسترد کیوں کی؟‎

 

اسلام آباد(نیا ٹائم ویب ڈیسک) آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان پرپابندی عائدکی گئی ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے سکتا جب تک بینک اپنے مالیاتی واجبات کے لیے کوئی کورحاصل نہیں کرلیتا اس وقت تک مرکزی بینک کا100% منافع بھی وفاقی حکومت کو منتقل نہیں کیا جا سکےگا۔ ‎اسٹیٹ بینک کے منافع کا 20% بینک کے پاس ہی محفوظ رہےگا۔

ذرائع نے دعوی کیاکہ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 میں ترامیم کی پاکستانی حکومت کی تمام اہم تجاویز کویکطرفہ طورپرردکردیاتھا، آئی ایم ایف محض اتنی لچک دکھائی تھی کہ صرف وفاقی حکومت مرکزی بینک کے بورڈ ممبران کی تقرری اور سیکرٹری خزانہ کو بورڈ میں رکھ سکتی ہے، لیکن سیکرٹری کو ووٹ دینےکا اختیارنہیں ہوگا۔

‎پیرکے روزمشیرخزانہ شوکت ترین نےمیڈیا سے گفتگوکرتےہوئےانکشاف کیاتھا کہ اسیٹ بینک بل کی منظوری آئی ایم ایف کی طرف سےطے کردہ چند شرائط میں سے ایک تھی جس پر حکومت پاکستان کوہرصورت عمل پیراہوناتھا اس کےبغیر جنوری 2022ء میں 1 ارب ڈالر کی اگلی قسط کاملنامشکل ہوجاتا۔

‎آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پاکستان کی ایک مالی سال میں جی ڈی پی کے 2 % تک قرضے لینے کی تجویز بھی رد کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی طرف سے یہ تجویز بھی قبول نہیں کی گئی کہ وفاقی حکومت مرکزی بینک کو افراطِ زر کا ہدف دے گی۔ اگرچہ مس کنڈکٹ پرگورنراسٹیٹ بینک کو ہٹانےکا حکومتی اختیار آئی ایم ایف نےتسلیم کرلیا ہے۔

خیال رہےایک نجی اخبار نے مارچ میں دعوی کیاتھاکہ اسٹیٹ بینک کو مکمل خودمختاری دینے اور وفاقی کابینہ کی طرف سے بل کو بغیر پڑھے منظورکرنے کی شرط آئی ایم ایف نےعائد کی تھی۔

 

مریم نواز کو میڈیا ٹاک سے کس نے روکا؟

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ