• Saturday, 04 December 2021
شہباز شریف کی حکومتی مورچوں  پر لفظی گولہ باری

شہباز شریف کی حکومتی مورچوں پر لفظی گولہ باری

 

لاہور(نیا ٹائم)قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی اور صدر مسلم لیگ ن   شہبازشریف کا کہنا ہے کہ   موجودہ حکومت تو چلی جائے گی لیکن ملک کا معاشی دلدل سے  نکلنا  کسی صورت آسان نہ ہوگا۔

 

صدر مسلم لیگ ن  شہباز شریف کا  اپنے ایک بیان  میں کہنا تھا کہ یکم دسمبر سے  مہنگائی کے مارے عوام پر   نیامہنگائی  بم پھینکنے کی تیاری قابل مذمت اور غریب  عوام پر ظلم ہے۔موجودہ حکومت غریبوں کو کنگال اور ملکی معیشت کو تباہ و برباد کرچکی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دوائی، کھانا، بجلی، گیس مہنگی، روزگار ختم، ٹیکس پر ٹیکس، کیا یہ ہے نیا پاکستان؟،  اللہ تعالی اس ملک  اور  عوام پر اپنا رحم فرمائے۔

 

سابق وزیر اعلی  شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں  نہ گیس ہے نہ بجلی جبکہ آٹا ،چینی  اورگھی سمیت ہر چیز مہنگی ہو چکی  ہے   مگر  ملکی قرضہ روز بروز   بڑھتا  ہی چلا جارہا ہے  اورموجودہ حکومت کی جانب سے لیا گیا  یہ قرض  ملکی تاریخ کی  بلند ترین سطح پر پہنچ  چکا ہے لیکن عوام کو کچھ  نہ  ملا اور نہ ہی ملک میں  کسی قسم  کی کوئی بہتری آ سکی  ہے   تو یہ پیسہ آخر کہاں گیا۔

 

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جولائی تا  اکتوبر کے دوران حکومت کے غیرملکی قرض میں  اٹھار ہ  فیصد کا  بے تحاشا اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کی اسی  مدت  کے دوران حکومت نے 580 ملین  ڈالرز  سے زیادہ قرضہ  لیا۔جاری  مالی سال کے ابتدائی چار  مہینوں  میں حکومت نے 3.8 ارب ڈالر زکے نئے غیر ملکی قرضے لیے۔ سٹیٹ بنک کا مزید  قرض کے لئے حکومت پر دروازہ بند کرنا پاکستان کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔

 

شہباز شریف کا کہنا تھا  کہ موجودہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط پر پاکستان کی معاشی خودمختاری گروی رکھ دی   ہے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ  حکومت تو چلی جائے گی  مگر پاکستان کو معاشی دلدل میں اتنا دھنسا چکی ہے کہ اس سے نکلنا  کسی صورت  بھی آسان نہ ہوگا۔آج کی حکومت ’لوٹو اور پھوٹو ‘ کے اصولوں  پر چل رہی ہے۔وزیر اور مشیر  اپنی دیہاڑی لگاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔قوم ان کی دیہاڑیوں کا  خمیازہ بھگت رہی ہے اور برسوں بھگتے گی۔

 

 

ڈی جی نیب لاہور کی 4 سالہ کارکردگی رپورٹ

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ