• Thursday, 09 December 2021
پھر

پھر "منی بجٹ " لانے کا عندیہ

اسلام آباد ( نیا ٹائم ویب ڈیسک ) مشیر خزانہ شوکت ترین نے ایک بار پھر ملک میں نیا " منی بجٹ " لانے کا عندیہ دے دیا ۔ مشیر خزانہ  شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تازہ معاہدہ پہلے سے مختلف ہے ، گزشتہ معاہدوں میں ایسی شرائط پر بھی دستخط کئے گئے تھے جو اس سے بھی زیادہ سخت تھیں ۔ انہوں نے آئندہ ہفتے میں پھر " منی بجٹ " لانے کا بھی اعلان کر دیا ۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اگلے ہفتے تک منی بجٹ لائیں گے ، انہوں نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے البتہ ٹیکس نیٹ کا بڑھائیں گے ۔

انہوں نے منی بجٹ کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 350 ارب نیا ٹیکس نہیں ہے البتہ یہ وہ ٹیکسز ہیں جس پر لوگوں نے کسی نہ کسی طرح استثنیٰ لیا ہوا تھا ۔ مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف نے ہم سے ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ہدف سے زیادہ جمع کر لیں گے مگر ہم پالیسی کے مطابق ہی چلنا چاہتے ہیں ۔ مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف نے تو 700 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم ہم نے اس میں رعایت لیتے ہوئے 3 ارب روپے پر منوا لیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف نے ہم سے سیلز ٹیکس کے ریٹس کو بھی یونیفارم کر کے 17 فیصد پر لانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہم ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں ، جس سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو گا ۔ شوکت ترین نے کہا کہ کہا کہ ہمارے انکم ٹیکس میں 32 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ، لوگ اراضی تو رکھ لیتے ہیں تاہم وہ ٹیکس نہیں دیتے ۔

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ