• Thursday, 27 January 2022
وزیراعظم نےکونسی نئی امید جگا دی

وزیراعظم نےکونسی نئی امید جگا دی

 

اسلا م آباد (نیا ٹائم ) وزیراعظم عمران خان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ ہم ریکارڈ6ہزارارب تک ٹیکس جمع کرسکیں گے۔ اسلام آباد میں ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریک سسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا قدم تھا جس کے بارے میں مجھے شک ہونے لگا تھا کہ ہمارے پانچ سال میں ہدف پورا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر اور حکومتیں 2008 سے اس سسٹم پر کام کر رہی ہیں لیکن اب 2021 میں اس کا افتتاح کردیا گیا ہے اور آج سے یہ سسٹم شوگر انڈسٹری اور پھر سیمنٹ، فرٹیلائزر اور سوریہ سمیت دیگر شعبوں میں لاگو کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ایک مثبت قدم ہے جس کے دور رس اثرات ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ ہم اپنا ملک چلا سکیں، جس کی وجہ سے ہمیں قرضہ لینا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں ٹیکس کا کلچر کبھی نہیں تھا اور لوگ ٹیکس چوری کو برا نہیں سمجھتے تھے۔

اس کی ایک وجہ نوآبادیاتی نظام ہے کیونکہ باہر سے لوگ آکر پیسے لے جاتے تھےجب کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیکس ہمارے لیے استعمال ہو گا ،ان کا رویہ مختلف ہے۔ عمران خان نے کہا کہ آزادی کے بعد ہماری حکمران اشرافیہ نے ٹیکس کے نظام کو پنپنے نہیں دیا کیونکہ ٹیکس کے پیسے پرلوگوں کا اپنا الگ طرز زندگی تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ انہیں ہمارا کوئی درد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں یہ کلچر کبھی نہیں آنے دیا گیا، انگلینڈ کی سالانہ آمدن پاکستان سے 50 گنا زیادہ ہے، وہاں کے وزراء کی زندگی دیکھ لیں، ان کے وزراء باہر جائیں تو انہیں حکم ہے کہ 5 گھنٹے سے کم سفر کرنا ہو گا اور اکانومی کلاس میں سفرکریں۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کے وزیر اعظم امریکہ جاتے ہیں تو وہ وہاں کے سفارت خانے میں رہتے ہیں تاکہ ہمیں ہوٹل میں پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے مقروض ملک کے وزرائے اعظم نے بیرون ملک جتنی رقم خرچ کی اس کے بارے میں کیا کہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی حکمران کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کر رہا ہوں تو لوگ اسے ٹیکس نہیں دیں گے اور نہ ہی یہ کلچر پروان چڑھےگا۔انہوں نے کہا کہ جب میں یونیورسٹی میں تھا تو وہاں کے طلباء کہتے تھے کہ یہ ہمارے ٹیکس کا پیسہ ہے اور وہ غلط خرچ کر رہے ہیں، عوام دیکھ رہے تھے اور حکمران جانتے تھے کہ ہم جوابدہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان دو وجوہات کی وجہ سے ہمارا ٹیکس کلچر نہیں بن سکا، اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں، ہمارے لیے ٹیکس کلچر تیارکرنا ضروری ہے کیونکہ اب ہمارے ملک کا استحکام اسی پر ہے، ہم اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتے، 2008 کے بعد سے، 2018 کے دوران، قرضوں کی تعداد میں 4 گنا اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ امید ہے کہ ہماری ٹیکس وصولی ریکارڈ 6 ہزار ارب تک پہنچ جائے گا جس میں سے 3 ہزار ارب ان کے لئے ہوئے قرضوں پر جائے گا اور 22 کروڑ عوام کیلئے 3 ہزار ارب رہ جائے گا۔

 

علیزے شاہ نے ہمایوں سعید سےبدتمیزی کیوں کی؟