چیونگم کھاو، کورونا بھگاو ،،،کس کاکہنا؟

چیونگم کھاو، کورونا بھگاو ،،،کس کاکہنا؟

 

واشنگٹن (نیا ٹائم ویب ڈیسک) کورونا وائرس سے متاثرہ افراد بات کرنے، سانس لینے یا کھانسی کے ذریعے اپنے اردگرد کے لوگوں تک یہ بیماری منتقل کر سکتے ہیں۔ لیکن طبی ماہرین نے کووڈ کے مریضوں سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا انوکھا طریقہ تیارکیا ہے۔طبی ماہرین نےایک تجرباتی چیونگم تیارکی ہےجو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔یہ دعویٰ امریکہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں کیا گیا ہے۔

پنسلوانیا یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک ایسی چیونگم تیار کی ہے جس میں ایک پروٹین موجود ہے جو کورونا وائرس کے ذرات کو قید کرتا ہے۔اس طرح، چیونگم تھوک میں موجود وائرس کی تعداد کو محدود کرسکتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ لعاب دہن میں وائرس کی مقدارکوکم کرنےسےمتاثرہ افراد کو وائرس سے بات کرنے، سانس لینے یا کھانسی سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

محققین نےبتایا کہ چیونگم میں S2 ریسیپٹر پروٹین کی نقول کو شامل کیاگیا ہے۔S2پروٹین خلیات کی سطح پرموجود ہےاوراسےکورونا وائرس خلیوں میں داخل ہونے اوران کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب کے تجربات میں تھوک اور کوڈ سے متاثرہ لوگوں کے نمونے استعمال کیے گئے۔ محققین نے دریافت کیا کہ نمونوں اور تھوک میں وائرل ذرات چیونگم میں S2 ریسیپٹرز سے خود کو جوڑتے ہیں۔اس کے نتیجے میں نمونوں میں وائرل لوڈ کی شرح میں 95 فیصد سے زیادہ کی حیران کن کمی واقع ہوئی ہے ۔

تحقیق کے مطابق یہ چیونگم ذائقہ میں عام چیونگم سے ملتی جلتی ہے اور اسے عام درجہ حرارت پر برسوں تک محفوظ کیا جاسکتا ہے۔چیونگم چبانے سے ایس ٹو پروٹین مالیکیولز کو نقصان نہیں پہنچاتی ۔اس لیےاسے بلاخوف کھایا جا سکتا ہے ۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تھوک پر وائرل بوجھ کو کم کرنے سے ویکسین کے فوائد میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح چیونگم ان ممالک میں خاص طور پر مددگار ثابت ہوگی جہاں ویکسین دستیاب نہیں یا وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ تحقیق کے نتائج جریدے مالیکیولر تھیراپی میں شائع ہوئے ہیں ۔