• Saturday, 04 December 2021
ٹی 20ورلڈکپ ،کب،کون اورکیسے جیتا؟

ٹی 20ورلڈکپ ،کب،کون اورکیسے جیتا؟

(حامدخان، نیاٹائم ویب ڈیسک)

 

1876 سےانگلینڈ کی سر زمین پر کھیلے جانےوالا کھیل کرکٹ جس کو آغاز میں اُمرا اور رئیسوں کا کھیل کہہ جاتا تھا رفتہ رفتہ اُمرا کے محلات سے نکل کر انگلینڈ کی گلی کوچے میں کھیلا جانے لگا پانج روز کھیلے جانے والا یہ کھیل عوام میں کوٸی خاص توجہ حاصل نہ کرسکا مگر انگلینڈ اورآسٹریلیا کے درمیان ہونے والا پہلا ٹیسٹ جو آسٹریلوی ٹیم جیت گی اس ٹیسٹ میچ میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جب آسٹریلوی ٹیم جیت کے بعد ایک وکٹ بھی یاد گارکے طورپرساتھ لےگئی جو انگلینڈ عوام کے لیے ایک ذلت تھی اس واقعہ کے بعد آسٹریلیا اور انگلینڈ روایتی حریف بن گئے۔

جن ممالک میں برطانوی راج تھا وہاں کرکٹ شروع ہوئی توکچھ عرصہ گزرنے کے بعد شائقین کرکٹ دلچسپی لینے لگے۔آٸی سی سی نے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے 1975 میں پہلا ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ انگلینڈ کا اہتمام کیا جو انگلینڈ میں کھیلا گیا۔اس کے بعد 1979 .1983. 1987 .1992 ۔

1996اور2003 کےورلڈ کپ کے بعد شائقین کرکٹ کی دلچسپی کم ہونے لگی اور یہ محسوس کیاجانے لگاکہ کوٸی شارٹ فارمیٹ کی بنیاد پرورلڈ کپ ہونا چاہیے۔

آٸی سی سی کی تین سال کی مسلسل کوشش سے یہ فیصلہ ہوا کے بیس اورز کا ورلڈ کپ کرویا جائے۔ آٸی سی سی کے ممبران ممالک کی اکثریت کا خیال تھاکےیہ شارٹ فارمیٹ کامیاب نہیں ہوگا مگر 2007 کے ورلڈ کپ T20 میں شائقین کرکٹ کی دلچسپی نے آئی سی سی کو حیرت میں ڈال دیا تب یہ فیصلہ کیا گیا کے ہر دوسال بعد T20 ورلڈ کپ کا انعقاد کیا جائے گا۔

اب تک چھ مرتبہ کھیلے گئے ٹی 20 ورلڈ کپ کا جائزہ پیش کریں گے اور بتائیں گے کہ کون سے ورلڈ کپ میں فاتح کون سی ٹیم رہی، کسی کھلاڑی نے اپنی ٹیم کو فائنل میں کامیابی کے لیے نمایاں کارگردگی دکھائی۔

برصغیر پاک وہند، سری لنکا، بنگلہ دیش سمیت دنیا کے بہت سے ممالک آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، ساوتھ افریقہ، نیوزی لینڈ اور بہت سے ممالک میں کرکٹ بہت شوق سے دیکھی اور کھیلی جاتی ہے لیکن جب بھی کوٸی میگاایونٹ جیسےورلڈ کپ بالخصوص شارٹ فارمیٹ اور وہ بھی T20 ورلڈ کپ ہوتو شائقین کرکٹ اپنی ٹیموں اور اپنے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے بےتاب نظر آتے ہیں ،ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی اُن کی دھڑکنیں تازہ اور انتظار طویل ہوجاتا ہیے شایقین کرکٹ کے اس شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آج تک کھیلے گئے چھ مرتبہ ٹی 20 ورلڈ کپ کا منظرنامہ پیش کریں گے۔

2007

پہلا ٹی 20 ورلڈ کپ 2007 کو ساوتھ افریقہ میں کھیلا گیا جس میں پاکستان انڈیا، آسٹریلیا، انگلینڈ ،ویسٹ انڈیز، ساوتھ افریقہ، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کی ٹیموں نے شرکت کی۔ 2007 ورلڈ کپ کا فائنل پاکستان اورانڈیا کے درمیان کھیلا گیا۔ انڈین ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے 152 رنز بنائےتھے، اس میچ میں گوتھم گھمبیر نے اپنی ٹیم کے لیے شاندار 74رنز بنائےتھے۔ پاکستان نے ہدف کادفاع کرتے ہوئے اننگ کاشاندارآغازکیا،عمران نذیرکی طوفانی بیٹنگ کی بدولت انڈین بالرز کے چھکے چُھٹ گئے ،تاہم جیتا ہوا میچ یونس خان اور مصباح الحق نے پلیٹ میں رکھ کر انڈیاکودےدیا۔

پہلے یونس خان نے ان فارم بیٹسمین عمران نذیر کو غلط آوٹ کروادیا اور جب آخری اُوورمیں پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے صرف چھ رنز درکار تھے تو کریز پر موجود ویل سیٹ بیٹر مصباح الحق ایک غلط شارٹ مار کر آوٹ ہوگئے اور یوں پاکستان یہ جیتا ہوا فائنل میچ یونس خان اور مصباح الحق کی وجہ سے ہارگیا،تاہم شاہد آفریدی مین آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے۔

ورلڈ کپ 2009

ورلڈ کپ 2009 انگلینڈ میں کھیلا گیا۔ اس ورلڈ کپ میں بھی دونوں ایشیئن ٹیمز پاکستان اور سری لنکا مدمقابل تھیں۔ سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے138 رنز بنائےتھے، جس کے جواب میں پاکستان کے بیٹسمین شاہد آفریدی نے شاندار بیٹنگ کرتےہوئے 54 رنزبنائے۔ اسطرح پاکستان نے دو وکٹ کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا اور 2009 ورلڈ کپ T20 کا چیمپیئن بنا۔

ورلڈ کپ 2010

T20ورلڈ کپ ویسٹ انڈیزمیں کھیلا گیا اس ورلڈ کپ میں فائنل آسٹریلیا اور انگلینڈکےدرمیان ہوا۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کی مگر اُن کےدونوں اوپنرز شین وارٹسن اور ڈاوڈ صرف چار رنز بنا کر آوٹ ہوگئےتھے۔ اس موقع پر آسٹریلوی بیٹسمین ڈراوڈہنسی نے 64رنز بناکر اپنی ٹیم کو 147 کے سکور تک پہنچایا تھا۔ جواب میں انگلینڈ نے صرف 17 اُوور میں یہ ہدف حاصل کیا۔ ورلڈ کپ 2010 میں کسمی پیٹرسن مین آف دی سیریز قرار پائےتھے۔

ورلڈکپ 2012

ورلڈ کپ2012 سری لنکا میں کھیلا گیا۔ اس ورلڈ کپ میں فائنل سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہوا۔ ویسٹ انڈیز کا آغاز کچھ اچھا نہ تھا مگر سیمول کی شاندار بیٹنگ کی وجہ سے ویسٹ انڈیز 137 رنز بنا سکی۔ اُمید تو یہ کی جاری تھی کے سری لنکا فائنل با آسانی جیت جائے گا مگر جب ویسٹ انڈیز کے بالروں کی کالی آندھی چلی تو وہ سری لنکا کی تمام ٹیم کو خشوخاشاک کی طرع اُڑا لےگی۔ یوں سری لنکا کی ٹیم صرف 101 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی اور ورلڈ کپ 2012 ویسٹ انڈیز نے جیت لیا۔

ورلڈ کپ 2014

اب ایک نظر ورلڈ کپ 2014 پرڈالتےہیں،ورلڈ کپ کا فائنل سری لنکا اور انڈیا کےدرمیان بنگلہ دیش میں کھیلا گیا۔ انڈیا نےٹاس جیت کرپہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا یہ فیصلہ انڈیا کے لیے کچھ بہتر ثابت نہ ہوا، جس پر انڈین کرکٹ ناقدین آج تک تنقید کرتے ہیں۔ انڈیا نےپہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 130 رنز بنائےتھے۔ وراہت کوہلی ،روہت شرما نے انتہاٸی سست بیٹنگ کی ۔دھونی کی کپتانی اور بیٹنگ کی بدولت انڈین ٹیم 130 سے زیادہ سکور نہ کرسکی۔ جس کے جواب میں سری لنکا کی ٹیم نے 17 اُوور میں چاروکٹ کے نقصان پر یہ ہدف حاصل کیا۔ سری لنکن بیٹسمین کمار سنگاکارا کے54رنز نے سری لنکا کی فتح میں اہم کردارادا کیا۔

ورلڈ کپ 2016

دوہزارسولہ کا ورلڈکپ انڈیا میں کھیلا گیا اس ورلڈ کپ میں فائنل ٹاکراانگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہوا۔انگلینڈ کی بیٹنگ کا آغاز انتہاٸی مایوس کن تھا۔ انگلینڈ کے اوپنرجسمن راو اور ایکسل صرف 3 رنز بناکر آوٹ ہو گئےتھے۔ انگلینڈ کےبیٹسمین جُوے راو نے 64 رنز سکورکیے اور اپنی ٹیم کو 154 کے مجموعی سکور تک لے جانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انگلینڈکی طرف سے ملنے والے ہدف کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی شروع میں مشکلات کا شکار ہوئی۔ کریس گیل اورچارلس صرف 4 رنز بناکر آوٹ ہوئے ۔اس موقع پر لگ رہا تھا کے ویسٹ انڈیز یہ میچ ہار جائے گی مگر ایک بار پھر 2014 ورلڈ کپ کے ہیرو سیمیول کی شاندار بیٹنگ نے کھیل کا رخ ہی بدل دیا اور آخری اُوور میں24 رنزکرنا انتہاٸی مشکل نظر آرہا تھا۔ کارلوس پرتھ نے چار بال پر چار چھکے لگا کر اپنی ٹیم کو فتح دلاٸی ۔

ورلڈ کپ 2021

17 اکتوبر سے شروع ہوچکاہے جس میں 16 ٹیمیں شرکت کررہی ہیں۔ ورلڈکپ کے سیمی فائنلز 10 اور 11نومبر کو ہونگے جبکہ فائنل 14 نومبر کو کھیلا جائےگا۔اب کی بارورلڈچیمپیئن کون ہوگااس کاسب کرکٹ شائقین کوبے صبری سے انتظارہے۔

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ