منچلے کی ڈائری!(3)

منچلے کی ڈائری!(3)

منچلے کی ڈائری!

مجھ بے قصور کو پھٹڑ کرنے کے بعد وہ بد ذات لڑکا اور اس کے دہشتناک چاچے جشن آزادی منانے چلے گئے ۔ رش بھی قریباً ختم ہو چکا تھا ۔ فقط ایک آدمی جو قدرے جانا پہچانا دکھائی دیتا تھا ۔ منہ پر کرونا ماسک پہنے کھڑا تھا ۔ میں نے چُوتڑ سہلاتے اور شرمندگی چھپاتے اس شخص کی طرف دیکھا ۔ بالآخر میں نے پہچان لیا ۔ یہ ننگِ آدمیت پیجا پرابلم تھا جو ماسک کی اوٹ میں ہنستا چلا جا رہا تھا ۔

"صدقے کی رقم غلے میں ڈال آئے ہو ؟ " میں نے حقارت سے دیکھتے ہوے پوچھا ۔

"اوئے یار میں تو شروع سے ہی یہاں تھا ۔ تمہاری لتریشن کا سارا منظر میں نے اپنی دونوں گناہ گار آنکھوں کے ساتھ دیکھا ہے ۔ " ننگِ آدمیت نے جواب دیا ۔

"تو میری مدد کے لیے آگے کیوں نہیں بڑھے ؟ " میں نے پوچھا ۔

بولا " میں پاگل ہوں بھلا ؟ مگر آج تمہارے ساتھ جو کتوں والی ہوئی ہے نا ۔ اس کا ذمہ دار میں نہیں بلکہ تمہارا درزی ہے جسے آج تک ماپ لینا ہی نہیں آیا ۔ "

ہم خراماں خراماں چلتے سیڑھیوں کے ذریعے دربار شریف تک پہنچے ۔ غلے کے پاس جا کر اس نے پجامے کے نیفے میں گھسیڑا پچاس روپے کا ایک بوسیدہ سا نوٹ نکالا ۔

"یہ تھی صدقے کی وہ رقم جسے تم نے اس قدر حفاظت سے سنبھالا ہوا تھا " ، میں نے اُسے شرمندہ کرنے کی ناکام کوشش کی ۔

"کرونا کے موسم میں پچاس کا نوٹ بہت بڑی رقم ہوتی ہے اُستاد ۔ تم میری نیکی کو مخول مت سمجھو " یہ کہتے ہوئے اس نے پچاس روپے کا عمر رسیدہ نوٹ غلے میں ڈال دیا ۔ نہ صرف یہ بلکہ انگوٹھے کے ساتھ ٹھونگے مار مار کر اس نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ کہیں کوئی چور یا ڈاکو اس نوٹ کو واپس نہ اُچک لے ۔

اس دوران پیجا چند شخصیات کو تاڑ چکا تھا ۔ چنانچہ اپنا موبائل فون نکال کر ان سب کے ساتھ باری باری ہاتھ ملانے اور سیلفیاں لینے لگا ۔ وہ ان کے ساتھ کچھ اس انداز سے گفتگو کر رہا تھا جیسے برسوں سے جان پہچان ہو ۔ میں بہت حیران تھا مگر اصل حیرانی اُن شخصیات کے چہروں پر تھی جن کے ساتھ وہ بات چیت کرتا چلا جا رہا تھا ۔ میں سمجھ گیا کہ ٹک ٹاک کے لیے مسالہ اکٹھا کر رہا ہے ۔ دو چار تلنگی سی لڑکیاں نمودار ہوئیں ۔ اس کے پاس آ کر گپ شپ کرنے لگیں ۔ ان میں ایک اُبھرتی ہوئی سٹیج ایکٹرس بھی تھی اور یہ اس کا فین اور فالور تھا ۔ اس کے ساتھ دو ایک سیلفیاں بنواتے ہوئے پیجے نے اپنے روایتی سے فاتحانہ انداز میں میری طرف دیکھا ۔ میں نے دیکھا ان دیکھا کرتے ہوئے منہ دوسری طرف پھیر لیا ۔

لنگر شروع ہوا تو اس واہیات شخص نے مجھے لنگر کی لائن میں لگنے کا اشارہ کیا ۔ میں نے جانا نہیں تھا مگر سچی بات یہ ہے کہ بھوک بہت زوروں پر تھی اور میرے پاس کچھ اور کرنے کو تھا بھی نہیں ۔ لائین میں میرے آگے اور پیچھے کھڑے دونوں آدمی اچھے خاصے چغد واقع ہوئے تھے ۔ دونوں پہلے تو میرے پھٹے ہوئے چوغہ نما کُرتے کو دیکھتے رہے۔ اُنکی آنکھوں سے ٹپکنے والی ہمدردی اور عقیدت سے محسوس ہوتا تھا کہ مجھے کوئی مجذوب سمجھ رہے ہیں ۔ ان میں سے ایک تو بار بار سرگوشی کے انداز میں ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے میرے کان میں اپنے چند پوشیدہ امراض بارے کچھ کہہ رہا تھا ۔ یقیناً دعا وغیرہ کروانا چاہتا تھا ۔ میں تو خیر شرم کے مارے چپ سادھے رہا مگر پاس سے گزرتے ایک اوباش نے اس کے کان میں کچھ کھُسر پھُسر کی اور چند پر اسرار سی مقویات اس کے حوالے کر کے اس سے ہزار روپے اینٹھ لئے ۔ اندرون شہر والی سائیڈ پر آج کل یہ کاروبار بھی عروج پر ہے ۔

( جاری ہے )