• Wednesday, 20 October 2021
منچلے کی ڈائری!( 2 )

منچلے کی ڈائری!( 2 )

 

سلنسرسے بائفل نکلتےہی موٹرسائیکل کی آوازمیں ایک عجیب سی شان وشوکت آگئی۔ ویسے تویادگاربالکل نزدیک تھی مگر پیجے کے سرپرصدقہ خیرات وغیرہ سوارتھے۔کہنے لگا کہ اس کے اباجی ہرچوداں اگست کاآغازخیرات سے کرتے تھے۔چنانچہ ہم سب سے پہلے داتاصاحب جائیں گے۔میں کافی مرعوب ہوامگرساتھ ہی ماتھا بھی ٹھنکا کہ ہو نہ ہواس بدبخت کووہاں پراپناکوئی ذاتی کام ہے۔

سائیکل سٹینڈ پرگاڑی پارک کرتے ہوئےمیراچوغہ نماسبزکُرتاچین میں پھنس گیا۔میں نےعین بیچ سڑک کے جھک کرکُرتا چین میں سے نکالناشروع کردیا۔اس عمل میں لگ بھگ چارپانچ منٹ گزرگئے۔پیچھے سے آنے والی بن بائفل موٹرسائیکلوں نےوہ طوفان بدتمیزی برپاکیا کہ بس توبہ کامقام ہے۔

بارہ تیرہ برس کا ایک منچلاجواپنے قد سے اُونچی موٹرسائیکل چلارہاتھازورزورسےگالیاں دینے لگا۔پیجے نے گاڑی وہیں چھوڑتے ہوئےکہاکہ اگر آج کی تریخ میں تمہاراکُرتاچین سے نکل آیاتوپھرموٹرسائیکل پارک کرکے دربارشریف کے اندرچلے آنا۔یہ کہتے ہوئےاس نے گالیاں دیتےاس مختصرسے نوجوان کو ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کردیا۔ اس نے گدھے سےبھی زیادہ واہیات آواز میں روناشروع کردیا۔لوگ اکٹھے ہونے لگے۔میراکُرتابدستورپھنسا ہواتھا اوراب میں اسے نکالنا نہیں بلکہ قینچی ٹائپ کسی اوزارسے کاٹناچاہتاتھا۔حالات کی نزاکت بھانپتے ہوئے پیجا پرابلم وہاں سے کھسک گیا۔

بچے کی بیہودہ چنگاڑسن کرہرآتاجاتا اس کے پاس آنے لگا۔ یوں محسوس ہوا جیسے پورالاہوریکا یک اپنے کام کاج سے فارغ ہوکراس بدزبان لونڈے کی مزاج پُرسی کے لیے آن پہنچاہے۔میں چونکہ بدستورنیچے کی طرف جُھکا چین میں پھنساکُرتانکالنے میں مصروف تھااس لیے مجھے صرف آوازیں آرہی تھیں دکھائی کچھ نہیں دیتاتھاکیونکہ اس شرمناک پوزمیں میراسرمیرےہی داہنے پیرکے ٹخنے سےٹکرارہا تھا۔

"کیوں رُورہاہے پُتری"ایک احمقانہ سی آوازآئی۔"کس نے مارا ہےاس بیچارے بے زبان کو" شایدوہ خداترس احمق "بدزبان"کہنا چاہتا تھامگراردوکمزورہونے کی وجہ سے "بےزبان" کہہ گیا۔

"اوراس ملنگ کوکس نے گھوڑی بنایاہواہے"یہ استفسار غالبا میرے متعلق تھا۔

اتنے میں دربارکی جنوب مشرقی سائیڈ سے ہلکا سا شوربلندہوا۔ اس کے بعد جوآوازمیرےکانوں میں پڑی وہ اس سال کی شایدسب سے بُری خبرتھی۔

"اوئے تہاڈابھلا ہوجائے۔مُنڈے دے چاچے آگئے جے"

چیخم دھاڑمیں کچھ کمی واقع ہوتےمکارلڑکے نے نہایت دردبھری آوازمیں رودادسنائی۔

"پھڑوایہنوں کتھے چلاگیااے"

یہ غالبااس ناہنجارکے چاچے کی آوازتھی۔یقیننااسےاطلاع دی گئی ہوگی کہ حملہ آوریعنی کہ پیجاپرابلم جائے وقوعہ سے فرارہوکرغالبابیرون ملک چلاگیاہےالبتہ یوگانمالامتناہی آسن میں مگن یہ ملنگ ٹائپ آدمی اُسی بدذات کاساتھی ہے۔میں دیکھ تونہیں پایاتھامگر میری چھٹی حس کہنے لگی کہ چاچا میری طرف گامزن ہے۔چاچےکی ٹانگ کسی شہتیرسے کم نہیں تھی اس کااندازہ مجھے اس عبرتناک ٹُھڈے کی شدت سے ہوا جواس دجال نے میرے چُوتڑوں پررسیدکیا۔ میں ایک قلابازی لگانے کےبعدقریباآٹھ دس فٹ دورجاگرا۔ میرے جسم کے بعض انتہائی حساس مقامات بُری طرح چھل چکے تھے۔میں چونکہ صدمہ سہنے کے بعداٹھ نہیں سکاتھااس لیے اس راکشس نے مزیدتشددکی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔کربھی لیتاتوخیرتھی۔کیونکہ میراہروہ مقام سُن ہوچکاتھاجسے وہ نشانہ بناتا۔رش کافی حدتک چھٹ چُکاتھا۔لوگ جاچُکے تھے۔اس واردات کا واحدمثبت پہلویہ تھا کہ موٹرسائیکل چین میں پھنساہوامیراکُرتابالآخرچھوٹ توگیامگرمختلف مقامات سے پھٹ بھی چکاتھاجس کی وجوہات ایک سے زاید تھیں۔

جاری ہے