• Wednesday, 20 October 2021
منچلے کی ڈائری

منچلے کی ڈائری

 

ویسے تو چوداں اگست پہلے بھی کئی دفعہ آ چکی ہے مگر اس مرتبہ تو اخیر ہی ہو گئی ۔ ایسا ایسا سواد آیا کہ بس آپ کی سوچ ہے ۔ پیجا پرابلم ہے تو میرے بچپن کا دوست مگر نہایت گھٹیا اور بغیرت ٹائپ واقع ہوا ہے ۔ بچپن سے ہی اس کی عادت چھینا جھپٹی اور گھسن مکی وغیرہ کی تھی ۔ اوپر سے گھر بھی اس کا موہنی روڈ پر ہے جو کہ ایشیا میں پہلوانوں کی سب سے بڑی جائے پیدائش ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پر گھٹ و گھٹ ایک کروڑ پہلوان پیدا ہوئے ۔

خیر ، بات ہو رہی تھی پیجے پرابلم کی تو جناب یہ کسی بھی حوالے سے پہلوان فیملی کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا مگر بتاتا سب کو یہی ہے کہ وہ دور نزدیک سے پہلوان خاندان کے ساتھ نسبت رکھتا ہے ۔ حالانکہ یہ نسبت صرف اس حد تک ہے کہ پیجا ، اس کے ابا جی یا اس کا کوئی نہ کوئی کزن مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ اور بعض اوقات دو مرتبہ محلے کے کسی نہ کسی پہلواں سے لِتر ضرور کھاتے ہیں ۔ مار کھا کھا کر پیجا تو باقاعدہ باڈی بلڈر دکھائی دیتا ہے حالانکہ واقفان حال جانتے ہیں کہ اس کا جسم بنا ہوا کم اور سُوجا ہوا زیادہ ہے ۔

کہنے کو تو ہم دونوں ہی ٹک ٹاکر ہیں مگر اس کے فالور میرے سے کئی سو گنا زیادہ ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ پیجا صبح سے شام تک جو کچھ بھی کرتاہے اس کی ویڈیو آٹو میٹک بن جاتی ہے ۔ اس کام کے لیے اس نے گھر کے اندر اور باہر کم از کم ایک درجن تلنگے چھوڑ رکھے جو اس کی ویڈیو بنا بنا کر اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں ۔ مثلاً پہلوانوں کے ہاتھوں آج تک اس کے اور اس کے لواحقین کے جتنے بھی معرکے ہوئے ہیں ، ان سب کی ویڈیو آپ کو ٹک ٹاک پر ملے گی ۔ ان میں ایک ویڈیو وہ بھی ہے جس میں پیجے پرابلم کے ابا جی کی چار عدد پسلیاں ٹوٹتی صاف دکھائی دیتی ہیں ۔ لیکن اس عمل کے دوران کڑ کڑ کی جو آواز آتی ہے وہ اس خبیث نے از خود لگا رکھی ہے ۔ یہاں مراد پیجے سے ہے نہ کہ اس کے ابا جی سے ، ہیں جی ؟

ہم دونوں کے اندر وطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ پاکستان کی عظمت کا ذکر ہو یا ارض پاک کی حفاظت کا معاملہ ہم دونوں مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں ۔ ناصر بھولو صاحب کے ڈرائیور سے ایک د و پھینٹیاں ہم نے اس حوالے سے بھی کھا رکھی ہیں ۔ اس ان پڑھ نے ( یہاں بات ڈرائیور کی ہو رہی ہے ) ایک مرتبہ تاریخ پاکستان کے ایک نہایت اہم کردار جس کا نام اب مجھے یاد نہیں کے بارے میں کچھ الٹا سیدھا کہہ دیا ۔ بس پھر کیا تھا ، ہم دونوں آپے سے باہر ہو گئے ۔ اُس نے ہمیں بہت مارا ۔۔۔ کسی دن آپ کو بتاؤں گا کہ پیجے پرابلم کا یہ نام کہاں اور کیسے پڑا ؟

خیر لعنت بھیجیں میں بھی کہاں ماضی بعید کے قصے لے بیٹھا ہوں ۔ چلتا ہوں چوداں اگست کی طرف ، ہم دونوں نے دیگر لاتعداد دوستوں کے ساتھ مل کر ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی سبز ہلالی پرچم والے کرتے سلوائے ، میرا کرتا اس مرتبہ اس لعنتی کردار ( مراد درزی نہ کہ پیجا ) نے بہت لمبا سی دیا ۔ چنانچہ ایک تو چھوٹا قد اُوپر سے نہایت بیہودہ حد تک طویل و عریض سبز کرتا ، شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھا تو باقاعدہ ملنگ نظر آ رہا ہے ۔ میں نے نیچے سفید ترکی سٹائل پجامہ تو پہن رکھا تھا مگر اس قد آور کُرتے کی وجہ سے اس بیچارے کا کہیں نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا تھا ۔ ہر آتا جاتا شخص حقارت سے میری طرف یوں دیکھتا جیسے اسے یقین ہو کہ میں نے کرتے کے نیچے کچھ نہیں پہنا ہوا ۔ دو ایک منحوس قسم کے بزرگ ٹائپ راہگیر تو مجھے دیکھ کر لاحول پڑھتے بھی سُنے گئے ۔ حالانکہ میں کرتا اُچک اُچک کر سفید پجامہ دکھانے کی مشق لگاتار کرتا چلا جا رہا تھا ۔

(باقی آئندہ )