• Wednesday, 20 October 2021
مسیحاؤں کے روپ میں

مسیحاؤں کے روپ میں "بھیڑئیے" بے نقاب

لاہور ( نیا ٹائم ) لاہور کے بڑے ہسپتال میں خواتین ڈاکٹرز اور نرسز کو نشہ آور مشروب پلا کر برہنہ ویڈیوز بنانے کے بڑا سکینڈل سامنے آ گیا ۔ ایف آئی اے نے ڈاکٹر کو گرفتار کر کے موبائل سے 50 سے زائد خواتین کی برہنہ ویڈیوز بھی برآمد کر لیں ۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم لاہور سرکل نے جناح ہسپتال میں کارروائی کرتے ہوئے ایک ڈاکٹر کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ ساتھی خواتین ڈاکٹرز اور نرسز کو نشہ آور مشروب پلا کر ان کی برہنہ ویڈیوز بنانے کے گھناؤنے دھندے میں ملوث ہے ۔ ایف آئی اے حکام نے ڈاکٹر کے موبائل سے 50 سے زائد متاثرہ خواتین کی برہنہ ویڈیوز اور تصاویر برآمد کر لی ہیں ۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم ڈاکٹر مختلف حیلے بہانوں سے نرسز اور خواتین ڈاکٹرز کو اپنے پاس بلوا کر انہیں نشہ آور مشروب پلا کر ان کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنا لیتا ۔ تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ ہسپتال کے کچھ مزید ڈاکٹرز بھی اس گھناؤنے فعل میں اس کے ساتھ شامل تھے ۔ جن کے متعلق تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزم ڈاکٹر عبداللہ حارث سے ایف آئی اے مزید تفتیش کر رہی ہے تاہم اس کے دیگر ساتھی ڈاکٹروں کے نام تاحال صیغہ راز میں رکھے جا رہے ہیں ۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزموں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف پوری کارروائی کی جائے گی ۔ گرفتار ملزم ڈاکٹر عبداللہ حارث کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے ۔ ایف آئی اے حکام ملزم ڈاکٹر کے عالمی ریکٹ یا ڈارک ویب سے  تعلقات کے حوالے سے بھی تحقیقات کر رہے ہیں ۔