• Wednesday, 20 October 2021
قدیم ترین مسلم قبرستان مسمار

قدیم ترین مسلم قبرستان مسمار

غزہ ( نیا ٹائم ویب ڈیسک ) اسرائیلی افواج کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں ظلم و بربریت اور جارحیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ عرب میڈیا کے مطابق قابض اسرائیلی انتظامیہ نے مسجد اقصیٰ کے قریب قائم مسلمانوں کے قدیم ترین قبرستان مسمار کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی میونسپلٹی انتظامیہ نے بلڈوزر کے ساتھ قدیم ترین قبرستان میں موجود قبریں مسمار کر دیں ۔ مقامی مکینوں نے قبروں کی مسماری کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جس پر قابض انتظامیہ نے قبرستان میں قبروں کی بے حرمتی اور مسماری کو روک دیا ۔ عرب میڈیا کے مطابق قبرستان میں 1948 ء سے 1967ء کے درمیان شہید ہونے والے فلسطینی شہداء کی قبریں بھی موجود ہیں ۔ قبروں کی بے حرمتی اور مسماری کے خلاف فلسطینیوں نے بھرپور احتجاج کیا جس دوران اسرائیلی قابض افواج نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس سے 2 فلسطینی زخمی ہوئے ۔ عرب میڈیا کے مطابق قابض اسرائیلی انتظامیہ قبرستان مسمار کر کے قبرستان کی زمین پر قبضہ کر کے وہاں پارک بنانا چاہ رہی ہے ۔ واضح رہے اسرائیلی انتظامیہ نے اس سے قبل 2016ء میں بھی قدیم ترین قبرستان باب الرحمہ میں قبریں مسمار کی تھی ۔ دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم نے بھی مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کی قبریں مسمار کرنے اور قبرستان کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے ۔ او آئی سی کے مطابق قبریں مسمار کرنا ، مقدس مقامات کی توہین ، اسلامی شناخت اور ثقافتی ورثے کو مسمار کرنا اسرائیلی افواج کی پالیسی ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے ۔ او آئی سی اعلامیہ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف ایسے اقدامات انہیں اشتعال دلانے کا باعث بنتے ہیں ۔ او آئی سی نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے تاریخی قبرستان کو مسمار کر کے وہاں پارک اور میوزیم کی تعمیر کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔