غیر منتخب افراد کو ووٹ کا حصہ بنایا گیا، امیر حیدر ہوتی

غیر منتخب افراد کو ووٹ کا حصہ بنایا گیا، امیر حیدر ہوتی

اسلام آباد(نیا ٹائم ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ کلبھوشن کیلئے قانون سازی جبکہ منتخب ایم این اے علی وزیر کو پابند سلاسل رکھنا قابل مذمت ہے۔ منتخب ایم این اے کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کر کے پارلیمان کو بے توقیر کیا گیا ۔  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ملکی پارلیمانی تاریخ میں اتنی عجلت اور غلط انداز میں کبھی پارلیمان کا اجلاس نہیں بلایا گیا۔ مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے پارلیمانی روایات اور جمہوری اصولوں کو روند دیا گیا۔ پارلیمان موجود ہے لیکن قانون سازی کیلئے آرڈیننسز کا سہارا لیا جارہا ہے۔ آج پارلیمان میں تعداد پوری نہیں تھی اور غیر منتخب افراد کو بھی جعلی قانون سازی کیلئے پارلیمان میں لاکر ووٹنگ کا حصہ بنایا گیا۔حکومتی اراکین شدید دباؤ کا شکار ہیں اور متنازعہ قانون سازی کیلئے چور راستے اپنائے گئے ۔  حکومت نے  غیرآئینی، غیرجمہوری اور غیرقانونی طریقے سے قانون سازی کی  ہے جس کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر پہلے ہی متنازعہ تھے آج جو کردار انہوں نے ادا کیاوہ اب مکمل طور پر متنازعہ ہوچکے ہیں۔ای وی ایم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ووٹ چوری کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ آنے والے انتخابات حکومت نے آج ہی سے متنازعہ بنادیے ہیں۔ حکومت نے غیر آئینی طریقے سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا قانون پاس کرکے انتخابات پر سوالیہ نشان لگا دیا ۔ انتخابات کا انعقاد کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے جو کہ خود ای وی ایم سے مطمئن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے پارلیمان کے فلور پر بھرپور احتجاج کیا اور حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کی مخالفت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن متحد ہے اور حکومت کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف پارلیمان کے باہر بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ حکومتی رویے نے اپوزیشن کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں چھوڑا  ہے کہ سیاسی و پارلیمنٹ کے معاملات عدالتوں میں جائیں گے۔