رہائشی منصوبے کو بچانے کیلئے سندھ اسمبلی میں قرارداد پاس

رہائشی منصوبے کو بچانے کیلئے سندھ اسمبلی میں قرارداد پاس

کراچی ( نیا ٹائم ) شہر قائد میں تجاوزات کی زد میں آنے والے رہائشی منصوبے کو گرانے سے بچانے کے لیے اراکین سندھ اسمبلی میدان میں آ گئے ۔ سندھ اسمبلی میں رہائشی عمارتوں کو گرانے سے بچانے کے لیے پیش کی گئی قرار داداکثریت سے منظور کر لی گئی ۔  پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی ندا کھوڑو کی جانب سے تجاوزات کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی ، قرار داد میں انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ چھت سب کے پاس ہو ، کسی کے سر سے چھت چھیننا مسئلے کا حل نہیں ، قانون سب کے لیے برابر ہے ، ہونا بھی چاہئے ، اگر ماضی میں کسی افسر نے غلطی یا غفلت کی ہے تو اس سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے ، بلڈرز کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے تاہم اس کی سزا رہائشیوں کو نہیں دی جانی چاہئے ۔

قرار داد کے خلاف اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ شروع کر دیا ، شور شرابہ کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین سپیکر ڈائس کے گرد جمع ہو گئے ، اپوزیشن اراکین نے قرارداد کی کاپیاں پھاڑ دیں ، اس ہنگامے کے دوران حکومتی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔

بعدازاں اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی محمد حسین نے کہا کہ ناصر شاہ نے کہا تھا کہ نسلہ ٹاور کے حوالے سے قرارداد اسمبلی میں لا رہے ہیں تاہم پوری قرارداد میں نسلہ ٹاور کا ذکر تک نہیں کیا گیا ۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی نے کہا کہ اپوزیشن کو اس قرارداد پر بات کرنے سے بھی روک دیا گیا ، کراچی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں ، 14 سالوں میں سندھ حکومت نے اربوں روپے کی کرپشن کی ، یہ غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دینا چاہتے ہیں جو کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے ۔

پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے کہا کہ نسلہ ٹاور کے معاملے پر جذبات اور دونمبر کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ قرار داد میں صرف عمارتوں کو ہی تحفظ دینے کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ ملوث افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانے کی بات کی گئی ہے ۔