• Saturday, 04 December 2021
رنڈوے کے بھاگ جاگے!

رنڈوے کے بھاگ جاگے!

 

 

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد شان گل نے پاکستان کی ہسٹری میں تاریخ سازفیصلہ رقم کردیا، لاہور ہائیکورٹ نے دوران سروس انتقال کر جانیوالی سرکاری ملازمہ کے شوہر کونوکری دینے کے حوالے سے باضابطہ طورپرتحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

جسٹس محمد شان گل نے تحریری فیصلے میں پوائنٹ آوٹ کیا کہ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ رنڈوا کبھی بیوی پرانحصار نہیں کرسکتا۔ لہذا رولز 17 اے کا فائدہ مرد کو نہیں دیا جا سکتا۔ ایک عورت بھی پاکستان میں اتنی ہی سول سرونٹ ہے جتنا ایک مرد ہے۔ ایگزیکیٹو کی جانب سے خاتون سرونٹ بارےقانون کی تشریح محض لفظی بنیادوں پر کی گئی جبکہ اس کے مقاصد کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔تحریری فیصلے کےمطابق یہ بات انتہائی گستاخانہ اور بےجا ہے کہ خاتون سرکاری ملازمہ کے ورثا قانونی حق سے محروم رہیں ، موجودہ دور میں خواتین اپنی آزادی کی طرف تیزی سے بڑھی ہیں۔ سرکاری ملازمہ خاتون کے انتقال کے بعد شوہر کااستحقاق ہے کہ اسےسرکاری نوکری دی جائے۔

عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کو پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 کے رول 17 اے میں ترمیم کرنے کا حکم دیتے ہوئےکہاکہ تمام حقائق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سول سرونٹس کا رولز 17 اے موجودہ شکل میں امتیازی ہے جو کہ آرٹیکل 4، 25، 27 سے صریحامتضاد ہے۔ موجودہ کیس میں بھی انتظامیہ کو ازسرنو غوروفکراور سوچنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ملازمہ کے رنڈوے کو بیوی کے انتقال پر نوکری نہ دینا برا قانون ہے اور آئین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ رول 17 اے میں متوازن اور متناسب ترمیم کی ضرورت ہے جس سے ایک سرکاری ملازمہ کے رنڈوے کو سرکاری نوکری مل سکے۔

عدالت نے محکمہ سکول ایجوکیشن کو درخواستگزار کے کیس پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کی ۔ جسٹس شان گل نے 33صفحات پرمشتمل پاکستان کی ہسٹری کا تاریخ ساز فیصلہ جاری کردیا۔ درخواستگزار نے سول سرونٹ بیوی کے انتقال کے بعد محکمہ سکول ایجوکیشن میں بیوی کی جگہ بطور جونئیر کلرک تعیناتی کی درخواست دی تھی جسے محکمہ سکول ایجوکیشن نے ردکردیاتھا۔ درخواستگزار نے پنجاب سول سرونٹ ایکٹ 974 کے رولز 17 اے کے تحت درخواست دی تھی جس کے تحت ایک سرکاری ملازم کی بیوہ کو شوہرکے انتقال کے بعدنوکری دی جاسکتی ہے۔ محکمے نے درخواست اس نقطے پر مسترد کی کہ رولز 17 اے مرد سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد اسکی بیوہ کے لیے ہے نہ کہ خاتون سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد اسکے شوہر کے لیے بنایاگیا۔

عدالت عالیہ کے سامنے یہ معاملہ 17 جون کو آیا جس پرمعززجج نے فوری طور پر فریقین سے تفصیلی جواب مانگا۔ عدالت نے پنجاب حکومت سے اس صنفی امتیاز سے متعلق موقف پوچھا۔ تین عدالتی احکامات کے بعد محکمہ سی اینڈ جی ڈٰی اور ایڈووکیٹ جنرل آفس نےجواب جمع کرایا۔ موجودہ کیس میں رولز 17 اے کو یقینی طور پر غلط سمت میں لیا گیا۔ تحریری فیصلے کےبعد بہت سے حل طلب نکات سے ابہام ختم ہواہے کہ رول 17 اے کا فائدہ ایک بے روگاز رنڈوے کو کیوں نہیں دیا جا سکتا جو کہ اپنی بیوہ پر انحصار کرتا رہا ہو۔

رولز 17 اے کے حتمی مقاصد یہ تھے کہ ایک سرکاری ملازم جس کا انتقال ہو جائے اسکی فیملی کو فوری ریلیف ملنا چاہیے۔ مرد اور خواتین دونوں سول سرونٹس ہو سکتے ہیں اس کی یہ تشریح انتہائی مضحکہ خیزہے کہ سرکاری ملازم مردہوتواس کے مرنے پربیوی کوملازمت دی جاسکتی ہے اگربیوی دوران ملازمت وفات پاجائے تورنڈوے کونوکری نہیں دی جاسکتی۔

 

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ