خطیبوں کی تنخواہ میں اضافے کا اعلان ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

خطیبوں کی تنخواہ میں اضافے کا اعلان ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

پشاور ( نیا ٹائم ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے زیر صدارت اجلاس میں خطیبوں کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے سرکاری محکموں میں تمام خالی آسامیاں پر کرنے کی ہدایات دی ہیں ۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواکے زیر صدارت پہلی سہ ماہی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا ، اجلاس میں متعلقہ صوبائی وزراء ، چیف سیکرٹری ، ایس ایم بی آر اور دیگر  انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی ۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ اوقاف کو ہدایت دی کہ صوبے بھر کے خطیبوں کی ماہانہ تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے ، خطباء کی تنخواہیں 8 ہزار سے بڑھا کر کم از کم 21 ہزار روپے کی جائیں ۔ اجلاس میں تمام محکموں کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص اور جاری کردہ فنڈز اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ، جب کہ گزشتہ اور رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ترقیاتی منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے سرکاری محکموں کو ہدایت دیں کہ تمام خالی آسامیوں پر تین ماہ کے اندر اندر بھرتیاں کی جائیں ، تمام واٹر سپلائی سکیموں میں ایک کے بجائے 2 اہلکار تعینات کرنے کے لیے نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں ۔ صوبے کے پبلک گیم ریزرو میں وائلڈ لائف چوکیدار کی آسامیاں بھی تخلیق کی جائیں گی ۔ وزیر اعلیٰ نے فاریسٹ گارڈز کی نئی تخلیق کردہ 1200 آسامیاں پر بھرتیوں کا عمل جلد مکمل کرنے کا حکم جاری کیا ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو ڈیپوٹیشن پر دوسرے محکموں اور انتظامی عہدوں پر تعینات تمام اساتذہ کو ایک ہفتے کے اندر واپس سکولوں میں تعینات کر کے رپورٹ پیش کی جائے گی ۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کے استعمال کی شرح 38 فیصد رہی جو گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی نسبت 425 فیصد زیادہ ہے ۔

رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں 1713 ارب روپے مالیت کے 2280 منصوبے شامل کئے گئے ، جن کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں 210 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 331 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے 219 ترجیحی منصوبے شامل کئے گئے ہیں ۔ منصوبے اگلے دو سال میں مکمل ہوں گے ۔

وزیر اعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فنڈز استعمال کرنے کے سلسلہ میں محکمہ ٹرانسپورٹ 74 فیصد کے ساتھ پہلے ، روڈ سیکٹر 67 فیصد کے ساتھ دوسرے جبکہ انرجی سیکٹر 61 فیصد کے ساتھ فنڈز استعمال کرنے میں تیسرے نمبر پر رہا ۔