• Wednesday, 20 October 2021
تخائف کس کے؟عدالت نےبتادیا

تخائف کس کے؟عدالت نےبتادیا

اسلام آباد(نیاٹائم ویب ڈیسک)عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت دوسرے ملکوں سے ملنے والے تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہورہی ہے؟ حکمرانوں کو ملنے والے تحائف اُن کے نہیں بلکہ عوام کے ہیں۔


اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی۔ حکومت نے ایک دفعہ پھر وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے تحفوںکے حوالے سے بتانے یا نہ بتانے کیلئے عدالت سے وقت مانگ لیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دفاعی تحفہ ہو بے شک نہ بتائیں لیکن ہر تحفے کو پبلک کرنے پر پابندی کیوں ہے؟


جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی ملک نے ہار تحفے میں دیا تو پبلک کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ حکومت ددسرے ملکوں سے ملنے والے تحفوں کا نہ بتا کر کیوں پشیمان ہورہی ہے؟عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکمرانوں کو ملنے والے تحفے ان کے نہیں بلکہ قوم کے ہیں۔۔ اگر کوئی عوامی عہدہ نہ ہو تو کیا عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو تحفے مل سکتے ہیں؟


عدالت نے کہا کہ حکومت کیوں تمام تحفوں کو میوزیم میں نہیں رکھتی۔۔؟ بیرون ملکوں میں تو یہ ہوتا ہے ۔ حکومت کو تو چاہیے پچھلے دس سالوں کے تحائف پبلک کردے۔ حکومت یہ بھی بتائے کہ کتنے تحفوں کا ایف بی آر سے تخمینہ لگوایاگیا ؟اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ کی استدعاپرسماعت اگلی تاریخ تک ملتوی کردی۔

 

این ایچ اے معیاری کام نہیں کررہا