• Wednesday, 20 October 2021
بیٹیوں کی قیمت صرف چند مویشی

بیٹیوں کی قیمت صرف چند مویشی

کابل ( نیا ٹائم ویب ڈیسک ) افغانستان میں غربت اور افلاس نے بیٹیوں کو بے وقعت کر دیا ۔ غربت ، بیروزگاری اور بیرون ملک اثاثے منجمد ہونے سے افغانستان کا معاشی بحران سنگین ہو گیا ، غربت سے تنگ افغان کم سن بیٹیوں کی شادیاں مال مویشیوں اور اسلحے کے بدلے شادیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ افغان خبر رساں ادارے کے مطابق غربت ، بیروزگاری اور معاشی مسائل نے افغان خاندانوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں اور بہت سارے خاندان رقم ، اسلحے یا مویشیوں کے بدلے کم سن بیٹیوں کی ادھیڑ عمر مردوں سے شادیاں کر رہے ہیں یا انہیں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ خبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے برسر اقتدار آنے سے بیرون ملک موجود افغانستان کے اثاثوں پر پابندی لگنے سے معاشی صورتحال ابتر ہو گئی ہے ، ملک بھر میں اشیائے خورو نوش کی اور ایندھن کی قیمتیں دو گنا سے بھی بڑھ گئی ہیں ۔ جس کے باعث افغانستان کے کئےی علاقوں میں بیٹیوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ، کئی غریب خاندان غربت کے ہاتھوں تنگ ہو کر مویشیوں ، رقم اور اسلحے کے بدلے اپنی ایک ایک سال کی بچیاں تک فروخت کر رہے ہیں ۔ کچھ خاندانوں نے پیسوں کے لالچ میں کم سن بیٹیوں کو زیادہ عمر کے مردوں سے بیاہ دیا ہے ۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان صوبے غور کی مضافاتی تحصیلیں لڑکیوں کی خرید و فروخت کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہیں جہاں ایک سن افغانی لڑکی محض ایک سے ڈھائی لاکھ افغانی روپے میں دستیاب ہے ۔ اگر خریدار رقم نہ دے سکے تو وہ اس کے بجائے لڑکی کے گھر والوں کو اسلحہ یا مویشی دے کر بھی ان کی بیٹی کو خرید یا شادی کر سکتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ غور سمیت افغانستان کے دیگر کئی علاقوں میں بھی یہ مکروہ دھندا عروج پر پہنچ گیا  ہے جہاں کم سن لڑکیوں کی فروخت یا پیسوں کے عوض پہلے بھی شادیاں کی جاتی تھیں لیکن اب طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد یہاں یہ روایت مزید مضبوط ہو گئی ہے ۔