• Wednesday, 20 October 2021
بینک کار لیزنگ شرائط سخت ، پرائیویٹ شورومز کی چاندی

بینک کار لیزنگ شرائط سخت ، پرائیویٹ شورومز کی چاندی

کراچی ( نیا ٹائم ) سٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں سے گاڑیوں کی فنانسنگ پالیسی میں تبدیلی اور شرائط سخت ہونے نے پرائیویٹ کار شورومز اور قسطوں پر گاڑیاں دینے والوں کی چاندی کر دی ۔ بینکوں سے مایوس افراد نے پرائیویٹ شورومز اور لیزنگ کمپنیوں سے رابطے کرنا شروع کر دئیے ۔ آٹو سیکٹر کے کاروبار سے منسلک افراد کہتے ہیں کہ سٹیٹ بینک کی پالیسی اور نئی ہدایات سے بینکوں کی کار فنانسنگ میں کمی آئی ہے ، بڑی گاڑیوں کے خریداروں نے بینک سے قرض آپشن محدود ہونے پر پرائیویٹ لوگوں اور کمپنیوں سے گاڑیاں قسطوں پر لینے کے لیے رابطے کرنے پر مجبور ہیں ۔ کراچی کے کئی علاقوں جن میں سہراب گوٹھ ، پرانی سبزی منڈی ، پٹیل پاڑہ ، قائد آباد اور ماڑی پور سمیت کئی دوسرے علاقوں میں قائم شورومز جو بینکوں کی طرح ہی ڈیل کرتے ہیں ۔ کئی ایسے افراد اور کمپنیاں بھی موجود ہیں جو گاڑیوں کی خریداری کے لیے رقم دیتے ہیں اور اس کی واپسی بمعہ سود قسطوں کی صورت میں لیتے ہیں ۔ آٹو ڈیلرز کے مطابق بینکوں سے گاڑی لینا بہت مشکل ہو گیا ہے ، اس لیے لوگ پرائیویٹ ڈیلرز سے رابطے کر رہے ہیں ، جو گاڑی قسطوں پر دینے پر 25 سے 35 فیصد منافع لیتے ہیں ۔ پرائیویٹ افراد 2 سال ، اڑھائی سال یا 3 سال کی اقساط کی سہولت دیتے ہیں ۔ شرح سود کا حساب مدت اور ایڈوانس رقم کے حساب سے وصول کیا جاتا ہے ۔ ایک آٹو ڈیلر کے مطابق بینک کی نسبت پرائیویٹ فنانسنگ کی شرح زیادہ ہے چونکہ بینک کے قرض میں انشورنس اور ٹریکر لازم ہیں جبکہ پرائیویٹ کمپنیوں میں ایسی کوئی شرط لاگو نہیں ہوتی ۔ اس کے علاوہ بینک سے گاڑی لینے کے لیے ٹیکس گوشوارے بھی جمع کروانا ضروری ہوتی ہیں ۔ جس کے باعث قرض لینے والے سمجھتے ہیں کہ وہ پھنس سکتے ہیں اس لیے وہ پرائیویٹ فنانسگ کمپنیوں سے گاڑیاں یا قرض لینے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ واضح رہے سٹیٹ بینک نے اپنے نوٹیفکیشن میں حد لگائی ہے کہ ایک فرد کو 30 سے زیادہ آٹو لون نہیں دیا جا سکتا ۔ جس میں صرف چھوٹی گاڑیاں ہی لی جا سکتی ہیں ۔ دوسری جانب مقامی طور پر تیار ہونے والی 1000 سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کو ان شرائط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے لیکن اس سے اوپر کی گاڑیوں پر یہ تمام شرائط لاگو ہیں اور مقامی اسمبل ہونے والی گاڑیوں کی ڈیلیوری بھی 4 ماہ تک پہنچ گئی ہے ۔ جس کی وجہ گاڑیوں کے لیے استعمال ہونے والے سیمی کنڈکٹرز کو قرار دیا جا رہا ہے ۔