• Wednesday, 20 October 2021
بالی ووڈ میں نسل پرستی بڑا مسئلہ کیسے؟

بالی ووڈ میں نسل پرستی بڑا مسئلہ کیسے؟

 

ممبئی (نیا ٹائم ویب ڈیسک ) بالی ووڈ اداکار نواز الدین صدیقی نے ایک انٹرویو میں کہاکہ ہماری انڈسٹری میں اقربا پروری نہیں بلکہ نسل پرستی بہت بڑا مسئلہ ہے۔تفصیلات کے مطابق ورسٹائل اداکار نواز الدین صدیقی نے انکشاف کیاکہ ماضی میں انہیں چھوٹے قد اور سانولی رنگت کی وجہ سے مسترد کیا گیا اور اب وقت آگیا ہے کہ بولی وڈ فلموں میں روایتی خواتین کو ہیروئن کے طور پر پیش کرنے کے بجائے سانولی رنگت کی خواتین کو بھی مرکزی کرداروں میں دکھایا جائے۔ ان کا کہنا ہےکہ مجھے ایک لمبے عرصے تک صرف اس لیے مسترد کیا جاتا رہا کیونکہ میری رنگت سانولی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ ممبئی آئے تھے تو انہوں نے سوشل میڈیا پر مذاق میں اپنے لیے ایک جملہ لکھا تھا کہ” اب تیرا کیا ہوگا کالیا”جو کہ ایک مشہور فلمی ڈائیلاگ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈسٹری میں بہت سے ایسے ٹیلینٹڈ لوگ ہیں جو رنگ کالا ہونے یا قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکے ۔ ان کا مزید کہناتھا کہ میں ہمیشہ اس طرح کی تفریق کی خلاف لڑتا آیا ہوں اور آج بھی اپنی آواز بلند کرتا ہوں۔ نواز الدین صدیقی اپنی جاندار اداکاری کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں اور حال ہی میں انہیں فلم سیریس مین میں بہترین اداکاری کے لیے ایمی ایوارڈز میں نامزد بھی کیا گیا ہے۔ کامیڈی ڈرامہ فلم سیریس مین نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی تھی جس کی کہانی باپ اور بیٹے کے درمیان گھومتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں فارمولا فلمیں بالکل پسند نہیں آتیں جس میں ایک ہیرو اور ایک خوبصورت ہیروئن ہو اور جس فلم میں ایکٹنگ یا ٹیلنٹ دکھانے کا کوئی مارجن موجود نہ ہو۔ نواز الدین صدیقی نے بین الاقوامی ایمی ایوارڈ میں نامزدگی کے متعلق بتایا ہے کہ ایوارڈ صرف اس وقت اہمیت رکھتے ہیں جب وہ کسی قابل اعتماد فورم کےذریعے سے ملتے ہیں۔