• Thursday, 09 December 2021
ایک اور سیارے کی کھوج کا سفر‎

ایک اور سیارے کی کھوج کا سفر‎

 

واشنگٹن(نیا ٹایم ویب ڈیسک) امریکی خلائی ادارہ ناسا،نظام شمسی کے فوصل کی دریافت کے لیے مریخ کے بعد مشتری یعنی جوپیٹر کی کھوج میں ڈٹ گیا ہے، جس کے لیے انہوں نے اپنا مشن بھی روانہ کردیا ہے۔مشن کو لوسی کے نام سے روانہ کیا گیا ہے۔ اگلے 12 سال میں اس مشن پر 981 ملین امریکی ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اس دوران لوسی مشن سات ٹروجنز کی جانچ اور ان کا مطالعہ کرنے میں کامیاب ہو سکے گا۔

1974 میں ایتھوپیا میں دنیا کا قدیم ترین ڈھانچہ دریافت کیا گیا تھا ، جسے لوسی کا نام دیا گیاتھا، لوسی نامی اس ڈھانچے کی دریافت نے انسان کی ابتاء اور ارتقا کے متعلق نظریات کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا۔مشتری پر ٹروجن کی انوسٹیگیشن کے لیے ناسا نے اپنے مشن کا نام اسی اولین انسانی ڈھانچے کے نام پر رکھا ہے۔

ریکی خلائی ایجنسی کے سائنسدانوں کے مطابق مشن سے سب سے بڑے سیارے جوپیٹر کے مدار میں گیس کے بڑے ٹکڑے کے آگے اور پیچھے جو سیارچوں کا ایک غول ہے اس کا دو گروپس میں مطالعہ ممکن بنایا جائے گا۔ان کا ماننا ہے کہ یہ خلائی چیزیں اس سیارے کی تشکیل کے دوران بچ گئی تھیں اور نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں اہم انفارمیشن ان باقیات میں چھپی ہو سکتی ہیں۔ناسا کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں سیاروں کی موجودہ پوزیشن کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں۔

رابطے میں رہیے

نیوز لیٹر۔

روزانہ کی بڑی خبریں حاصل کریں بذریعہ